عورت اگر شوہر اور بیٹی کے ہوتے ہوئے غیر محرم سے تعلقات رکھے یعنی زنا کرے ،اس پر شوہر کے لئے کیا حکم ہے ؟
کسی شادی شدہ عورت کااجنبی مرد سے ناجائز تعلقات استوار کرنا اور زنا جیسے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنا انتہائی قبیح اور ناجائز و حرام فعل ہے،جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوئی ہے،اگر اسلامی سزائیں نافذ العمل ہوتی،تو عورت کے اقرار یا حجت شرعیہ سے ثبوت زنا کے بعد اس پر رجم (سنگسار ) کی سزاجاری کی جاتی،تاہم اب اگر بیوی اپنے اس فعل پر نادم ہو اور آئندہ کے لئے اس فعل کا دوبارہ ارتکاب نہ ہونے کاعزم کرتی ہو،اور شوہر کو بھی اسکی توبہ اور مستقبل میں ایسے رذائل سے دور رہنے پر یقین ہو،تو شوہر کےلئے زنا جیسے فعل قبیح کے سرزد ہونے کے باوجود بیوی کو اپنے عقد میں رکھ کر میاں و بیوی کی طرح ساتھ زندگی بسر کرنا درست ہوگا ۔
کما فی الھدایۃ : الزنا یثبت بالبینۃ و الاقرار ( الی قولہ ) فالبینۃ ان تشھد اربعۃ من الشھود علی رجل و امراۃ بالزنا لقولہ " فاستشھدوا علیھن اربعۃ منکم " الخ ( ج 2 صـ 182 کتاب الحدود ط : انعامیۃ ) ۔
و فیھا ایضا : و اذا وجب الحد و کان الزانی محصنا رجمہ بالحجارۃ حتی یموت ، لانہ علیہ السلام رجم ماعزا و قد احصن ، و قال فی الحدیث المعروف :"و زنا بعد احصان " و علی ھذا اجماع الصحابۃ رضی اللہ عنھم الخ ( ج 2 صـ 184 کتاب الحدود فصل فی کیفیۃ الحد و اقامتہ ط : انعامیۃ ) ۔
و فی الدرالمختار : بل یستحب لو مؤذیۃ او تارکۃ صلاۃ غایۃ ، و مفادہ ان لااثم بمعاشرۃ من لاتصلی ، و یجب لوفات الامساک بالمعروف و یحرم لو بدعیا الخ ( ج 3 صـ 229 کتاب الطلاق ط : ایچ ایم سعید ) ۔
و فی رد المحتار تحت ( قولہ : لو مؤذیۃ ) اطلقہ فشمل المؤذیۃ لہ او لغیرہ بقولھا او بفعلھا ط ( قولہ : او تارکۃ الصلاۃ ) الظاھر ان ترک الفرائض غیر الصلاۃ کالصلاۃ الخ ( ج 3 صـ 229 کتاب الطلاق ط : ایچ ایم سعید ) ۔
و فی الدرالمختار : و المزنی بھا لاتحرم علی زوجھا الخ ( ج 3 صـ 527 کتاب الطلاق ط : ایچ ایم سعید ) ۔
و فیہ ایضا : ( الاصح حظرہ ) ای منعہ ( الا لحاجۃ ) کریبۃ و کبر الخ ( ج 3 صـ 229 کتاب الطلاق ط : ایچ ایم سعید ) ۔واللہ اعلم