کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شوہر اور بیوی کا جھگڑا ہو رہاتھا ،تو شوہر نے بیوی پر پریشر ڈالنے کیلئے کہا ،کہ میں تمہیں طلاق لکھ کے دیتا ہوں ،تو بیوی نے دوسری طرف منہ پھیر لیا اور شوہر نے کاغذ اور پینسل اٹھایا ،لیکن کچھ لکھا نہیں اور کہا کہ دیکھو میں نے ایک لکھ دیا ہے،اور وہ خالی کاغذبیوی کی طرف پھینک دیا ،اور کہا کہ دیکھو میں نے لکھ دیا ہے،بیوی نے دیکھا تو اس پر کچھ نہیں تھا ،تو وہ شوہر کے قریب آنے لگی ،تو شوہر نے کہا کہ ابھی تم مجھ سے دور ہو جاؤ ،ابھی تم مجھ پر حرام ہو ،اور دل میں اس پر پریشر ڈالنے کی نیت تھی ،کہ یہ مجھ سے کچھ پوچھے گی تو میں کہوں گا کہ میں نے تمہیں طلاق لکھ کر دی ہے حالانکہ طلاق تو لکھ کے نہیں دی،توآیا اس صورت میں طلاق ہوئی یا نہیں؟اور کون سی طلاق ہوئی ،اور تجدید نکاح کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اور کتنی طلاقیں ہوئی ہیں؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی کمی بیشی سے کام نہ لیا گیا ہو تو شوہر نے بیوی کو لڑائی جھگڑے کے دوران پہلی دفعہ جو جملہ "میں تمہیں طلاق لکھ کے دیتا ہوں " کہا ،یہ چونکہ عرف میں وعدہ طلاق کے طور پرمستقبل میں طلاق دینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ،اس لئے اس سے شرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،اسی طرح اس کے بعد شوہر کا کاغذ پر کچھ لکھے بغیر بیوی کومحض یہ کہہ دینے سے "کہ دیکھو میں نے ایک لکھ دیا ہے " سے بھی شرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،البتہ بیوی کے قریب آنے پر شوہر نے جو جملہ "ابھی تم مجھ پر حرام ہو "کہا ہے اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا ،تاہم اگر میاں بیوی اپنی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو باقاعدہ دو گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ نکاح کرکے میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرسکتے ہیں ،تاہم تجدید نکاح کی صورت میں آئندہ کیلئے شوہر کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا ۔
کمافی الفتاوى الهندية: الكتابةعلى نوعين مرسومةوغيرمرسومةونعني بالمرسومةأن يكون مصدراومعنونامثل مايكتب إلى الغائب وغيرمرسومة أن لا يكون مصدراومعنوناوهوعلى وجهين مستبينةوغيرمستبينة فالمستبينةما يكتب على الصحيفةوالحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته وغيرالمستبينةمايكتب على الهواءوالماءوشيء لايمكن فهمه وقراءته ففي غيرالمستبينة لايقع الطلاق وإن نوى وإن كانت مستبينةلكنهاغيرمرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا وإن كانت مرسومةيقع الطلاق نوى أولم ينو اھ (1/378)۔
وفی الشامیۃ :وإن كان الحرام في الأصل كناية يقع بهاالبائن لأنه لماغلب استعماله في الطلاق لم يبق كناية، ولذالم يتوقف على النية أودلالة الحال اھ (3/299)۔