میں عبدالحنان ایک مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں ، اور میرا سوال یہ ہے کہ میرے معاشی حالات ٹھیک نہیں ہیں ، اس وجہ سے میری بیوی ہر روزمجھ سے لڑتی ہے ، بلا وجہ بچوں کو مارتی ہے اور طلاق مانگتی ہے ، اور نفسیاتی ٹارچر کرتی ہے ، اور میری بات بھی نہیں سنتی اپنی مرضی کرتی ہے ، اوراگر میں کچھ بولتا ہوں تو طلاق کا بولتی ہے ، تو میں کبھی کبھی بول دیتا ہوں کہ میں تمہیں " طلاق دے دونگا " تو کیااس سے طلاق ہو جاتی ہے ؟ اور مجھے اپنے قریب بھی نہیں آنے دیتی ہے ۔
سائل نے بیوی کے مطالبہ طلاق کے جواب میں اگر واقعۃً"میں تمہیں طلاق دیدونگا"کے الفاظ استعمال کئے ہوں، تو اس سے اگرچہ کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،تاہم بیوی کافقط معاشی تنگی کی وجہ سے اپنے شوہر سے طلاق کامطالبہ کرنا اور مباح امور میں اس کی اطاعت نہ کرنا ،بچوں اور شوہر سے براسلوک کرنا شرعاً جائز نہیں ،جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہورہی ہے ،جس پر اسے بصدقِ دل توبہ واستغفار اور شوہر سے دست بستہ معافی مانگتے ہوئے ،ان پریشان کن حالات میں اس کابازو اور معاون بن کر اس کی ہمت باندھنے کی کوشش کرنی چاہیئے ،تاکہ ان کی آگےکی زندگی خوشگوار ہوسکے ،نیز میاں وبیوی کونمازوں کااہتمام کرتے ہوئے اللہ تعالی سے دعاکرتے رہناچاہیئے ،امید ہے اللہ تعالی بہتری کامعاملہ فرمائیں گے ،جبکہ سائل کوبھی چاہیئے کہ وہ اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے میں احتیاط کرے ،تاکہ بعد میں پشیمانی کاسامنانہ ہو۔
کما فی الھندیۃ : بخلاف قولہ ( ساطلق ) کنم لانہ استقبال فلم یکن تحقیقا بالتشکیک و فی المحیط لو قال بالعربیۃ اطلق لایکون طلاقا الا اذاغلب استعمالہ للحال فیکون طلاقا الخ ( ج 1 صـ 384 کتاب الطلاق الفصل السابع الطلاق ط : ایچ ایم سعید ) ۔
و فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ : و یسن لکل من الزوجین تحسین الخلق لصاحبہ و الرفق بہ و احتمال اذاہ و سوء طباعہ لقولہ تعالی : ( و الصاحب بالجنب ) ای احسان لہ و لحدیث المتقدم " استوصوا بالنساء خیرا" وحدیث "خیار کم خیار کم لنسائہ "( الی قولہ ) قال ابن عباس رضی اللہ عنہ : ربما رزق منھا ولد فجعل اللہ فیہ خیراکثیرا"و اخرج مسلم عن جابر بن عبداللہ ان رسول اللہ ﷺ قال :"لایفرک مؤمن مؤمنۃ ان کرہ منھا خلقا رضی منھاخلقا آخر ای لایبغضھا الخ ( ج 7 صـ 330-331 الباب الاول الزواج و آثارہ الفصل السابع حقوق الزواج و واجباتہ ط : رشیدیۃ ) ۔واللہ اعلم