محترم جناب: السلام علیکم !
میں آپ سے یہ گزارش عرض کرنا چاہتاہوں کہ میں نے آج سے ڈھائی سال پہلے اپنی بیوی کو جھگڑا ہونے کی وجہ سے ڈرانے کیلئے 2 بار طلاق دی اور کہا کہ ”میں طلاق دیتا ہوں“طلاق کے الفاظ کہنے کے بعد دوسرے دن میری بیوی گھر آئی تھی اور ہم نے رجوع کر لیا تھا اور ہمارے درمیان سارا معاملہ ٹھیک ہو گیا تھا , ڈھائی سال کے بعد ہمارا پھر جھگڑا ہوا اور جھگڑے میں میری بیوی نے غصے کی حالت میں کہا کہ جو ایک طلاق رہ گئی ہے وہ بھی دے دے , اسکی مسلسل یہی تکرار تھی کہ جو ایک رہ گئی ہے وہ بھی دے دے , میں نے اس پر ایک دفعہ کہا کہ "طلاق دی" ، جبکہ میرے چار چھوٹے بچے ہیں, دو میرے پاس ہیں اوردوبچے بیوی کےپاس ہیں, ہم دونوں کو اپنی غلطی کا احساس ہواہے اب ہم ایک ساتھ رہنا چاہتے ہے لہذا دین کی روشنی میں ہمیں اس کا حل بتادیں۔
سائل نے ڈھائی سال قبل دوطلاقیں دینے کے بعد اگر رجوع کرلیا تھا (جیسا کہ سوال سے بھی معلوم ہورہاہے)تووہ رجوع درست ہواتھا جس کے بعد دونوں کا میاں بیوی کی طرح ساتھ رہنا بھی درست واقع ہواہے تاہم آئندہ ایک طلاق کا اختیار باقی تھا چنانچہ حالیہ جھگڑے میں وہ ایک طلاق بھی دیدی ہے تواس سے تیسری طلاق بھی واقع ہوکر مجموعی اعتبار سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکرحرمتِ مغلّظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بغیر حلالۂ شرعیہ دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں میاں بیوی پر لازم ہےکہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اورمیاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے،جبکہ عورت ایّامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہےکہ عورت اپنےشوہرسےعلیحدگی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرےمسلمان سےنکاح کرےاور حقوقِ زوجیت اداکرے،چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری(جو کہ حلالۂ شرعیہ کےتحقق کےلئےضروری ہے)کےفوراً بعدیا پھرازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دیدے،یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجائے،بہر صورت اس کی عدت گزارنے کےبعداگروہ پہلےشوہرکےنکاح میں آنا چاہے،اورپہلاشوہربھی اس کورکھنے پر رضامندہو،تونئے مہر کےساتھ , دوگواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِنکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کےساتھ کرناکہ زوجِ ثانی بیوی کونکاح کےبعدطلاق دےگا،تاکہ وہ زوجِ ِاول کےلئےحلال ہوجائے , مکروہِ تحریمی ہے،جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،البتہ بغیرکسی شرط کےا س کےساتھ نکاح کرنابلاشبہ جائزاوردرست ہے۔
اور اولاد کے متعلق حکمِ شرعی یہ ہے کہ بیٹا سات سال کی عمر تک اور بیٹی نو سال کی عمرتک ماں کی پرورش میں رہے گی بشرطیکہ اس دوران ماں بچوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرے یا ماں خود اپنے اس حق سے دستبردار نہ ہوجائےاور دورانِ کفالت بچوں کی پرورش پر آنے والے ضروری اخراجات سائل کے ذمہ لازم ہوں گے اور اس مدت کے بعد سائل ان بچوں کو اپنی تحویل میں لینا چاہے تولے سکتا ہے۔
قال اللہ تعالیٰ : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الآیہ (البقرۃ:230)۔
و فی صحیح البخاری : قال الليث ، عن نافع: كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: لو طلقت مرة أو مرتين ، فإن النبي صلى الله عليه و سلم أمرني بهذا ، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرہ "(5264)
وفی الدرالمختار: وفیہ ایضاً : (والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة(حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم بحر بحثا.وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب. وعند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى.(3/566)۔
وفی ردالمحتار: قال في البدائع: و إذا تأكد المهر بما ذكر لا يسقط بعد ذلك، و إن كانت الفرقة من قبلها لأن البدل بعد تأكده لا يحتمل السقوط إلا بالإبراء كالثمن إذا تأكد بقبض المبيع. اهـ.(3/103)۔