کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسمی ساحل نے اپنی بیوی مسماۃ اسماء کو میسج پر یہ الفاظ لکھ کر سینڈ کر دیے ، " تہ پہ ما طلاقہ ئے، تہ پہ ما طلاقہ " تم مجھ پر طلاق ہو، تم مجھ پر طلاق) اس کے بعد ہم دونوں بدستور میاں بیوی کی حیثیت سے رہتے رہے ہیں ، اب کچھ دن پہلے پھر گھر میں لڑائی جھگڑے کے دوران ایک مرتبہ پھر طلاق کے الفاظ بول دیے ہیں کہ " تہ پہ ما طلاقہ ئے " (تم مجھ پر طلاق ہو) ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟
نوٹ : ادھورے جملے "تہ پہ ما طلاقہ " کے متعلق میاں بیوی دونوں حلفیہ بیان دے رہے ہیں کہ یہ جملہ پورا نہیں لکھا تھا۔
صورت ِمسئولہ میں جب سائل مسمی ساحل نے اپنی بیوی مسماۃ اسماء کومیسج پر مذکور الفاظ " تہ پہ ما طلاقہ ئے، تہ پہ ما طلاقہ" لکھے تو اس میں اگر چہ دوسرا جملہ بظاہر نا مکمل معلوم ہوتا ہے لیکن طلاق کے باب میں اگر یہ جملہ مطلقا ً استعمال کیا جائے تو اس سے وقوعِ طلاق مرادلیا جاتا ہے چنانچہ فتاوی دار العلوم میں فقط "تجھ کو طلاق ، طلاق، طلاق" کے الفاظ سے وقوعِ ِ طلاق کے بارے میں سوال کے جواب میں تین طلاقوں کا حکم لگایاگیا ہے ( ج 9 ، ص 282 ، ط : دار الاشاعت، کراچی) ، لہذا اس میسج میں لکھے ہوئے الفاظ سے سائل کی بیوی پر دو ر جعی طلاقیں واقع ہو چکی تھیں ، اور دورانِ عدت رجوع کرنے سے رجوع بھی درست ہو چکا تھا،اور اب حالیہ واقعہ میں جب شوہر نے لڑائی جھگڑے کے دوران دوبارہ مذکور الفاظ " تہ پہ ما طلاقہ ئے " کہے تو اس سے سائل کی بیوی پر بقیہ ایک طلاق واقع ہو کر مجموعی طور پر تینوں طلاقوں کے ذریعہ حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا ، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایام ِعدت گزرنےکے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
كما قال الله تعالى : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ( سورة البقرة، الأية : 230)-
و في صحيح البخاري : و قال الليث عن نافع كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال لو طلقت مرة أو مرتين فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك ( باب من قال لامرأته أنت علي حرام، ج 7، ص 43 ، رقم : 5264 ، ط : السلطانية)-
و فى الهداية : وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها ( فصل فيما تحل به المطلقة ، ج 2 ، ص 257 ، ط : دار إحياء التراث العربي، بيروت)-
وفي الموسوعة الفقهية الكويتية : يشترط في اللفظ المستعمل في الطلاق شروط هي : الشرط الأول : القطع أو الظن بحصول اللفظ وفهم معناه . المراد هنا : حصول اللفظ و فهم معناه، وليس نية وقوع الطلاق به، وقد تكون نية الوقوع شرطا في أحوال اهـ ( ج 29 ، ص 23 ، ط : وزارة الأوقاف و الشئون الإسلامية، الكويت)-