السلام علیکم!
میں نےاپنی زوجہ سے گھریلو جھگڑے کی وجہ سے لڑتے ہوئے طلاق کے تین الفاظ کہہ دیے جوکہ میرے بڑے بیٹے ،بیٹی اورزوجہ نے سنے ، اب اس پر شریعت اور سنت کا کیاحکم ہے ،اس پر آپ ہمیں آگاہ کریں اور تحریری جواب دیں کہ طلاق ہوگئی ہے تو پانچ بچوں کا خرچہ اورحق مہر کا کیا حکم ہے ،طلاق کے الفاظ یہ تھے ”میں طلاق دیتا ہوں “یہ جملہ تین مرتبہ بولا تھا ، بچوں کی عمریں بالترتیب یہ ہے ، پہلی بیٹی کی عمر سترہ سال ،دوسرے بیٹی کی گیارہ سال ، پہلے بیٹے کی عمردس سال ،دوسرے کی تیرہ سال، تیسرے کی آٹھ سال، جوبھی شرعی حکم ہوتحریر فرمائیں ۔
سائل نے جب لڑائی جھگڑے کے دوران اپنی بیوی کو مذکورالفاظ”میں طلاق دیتاہو “تین مرتبہ کہہ دیے تواس سے سائل کی بیوی پرتینوں طلاقیں واقع ہوکرحرمتِ مغلّظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بغیر حلالۂ شرعیہ دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں میاں بیوی پر لازم ہےکہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اورمیاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے،جبکہ عورت ایّامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہےکہ عورت اپنےشوہرسےعلیحدگی اور عدتِ طلاق گزارنےکے بعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرےمسلمان سےنکاح کرےاور حقوقِ زوجیت اداکرے،چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری(جو کہ حلالۂ شرعیہ کےتحقق کےلئےضروری ہے)کےفوراً بعدیا پھرازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دیدے،یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجائے،بہر صورت اس کی عدت گزارنے کےبعداگروہ پہلےشوہرکےنکاح میں آنا چاہے،اورپہلاشوہربھی اس کورکھنے پر رضامندہو،تونئے مہر کےساتھ دوگواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِنکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کےساتھ کرناکہ زوجِ ثانی بیوی کونکاح کےبعدطلاق دےگا،تاکہ وہ زوجِ اول کےلئےحلال ہوجائے , مکروہِ تحریمی ہے،جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،البتہ بغیرکسی شرط کےا س کےساتھ نکاح کرنابلاشبہ جائزاوردرست ہے۔
سائل نے نکاح کے موقع پرطے شدہ حق مہر اگر ادانہ کیا ہو اور نہ ہی بیوی نے معاف کیا ہو توسائل کے ذمہ طے شدہ حق مہر کی ادائیگی بھی لازم اورضروری ہوگی ۔
جبکہ سائل کی بیٹیاں چونکہ سترہ اورگیارہ سال اور بیٹے دس ،اٹھارہ اورآٹھ سال کی عمر کوپہنچ چکے ہیں اس لئے ماں کاحق پرورش ساقط ہوچکا ہے اور اگرسائل انہیں اپنی تحویل میں لینا چاہے تولے سکتاہے ، البتہ اگر بیٹیو ں کا اپنا کوئی ذریعہ آمدن نہ ہو توان کی شادیاں ہونے تک اسی طرح جو بیٹے کام کاج کے قابل نہیں ہیں اگر ان کے پاس بھی کوئی مال نہ ہو تو ان کے کام کاج اورکمائی کے قابل ہونے تک ان کے ضروری اخراجات سائل کے ذمہ لازم ہونگے تاہم جوبیٹے کام کاج کے قابل ہوں ان کے اخراجات سائل کے ذمہ لازم نہ ہونگے ۔
قال اللہ تعالیٰ : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الآیہ (البقرۃ:230)۔
و فی صحیح البخاری : قال الليث ، عن نافع: كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: لو طلقت مرة أو مرتين ، فإن النبي صلى الله عليه و سلم أمرني بهذا ، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرہ "(5264)-
وفی الدرالمختار: (وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحراھ(3/612)
وفی ردالمحتار: (قوله الفقير) أي إن لم يبلغ حد الكسب، فإن بلغه كان للأب أن يؤجره أو يدفعه في حرفة ليكتسب وينفق عليه من كسبه لو كان ذكرا، بخلاف الأنثى كما قدمه في الحضانة عن المؤيدية. قال الخير الرملي: لو استغنت الأنثى بنحو خياطة وغزل يجب أن تكون نفقتها في كسبها كما هو ظاهر، ولا نقول تجب على الأب مع ذلك، إلا إذا كان لا يكفيها فتجب على الأب كفايتها بدفع القدر المعجوز عنه، ولم أره لأصحابنا. ولا ينافيه قولهم بخلاف الأنثى؛ لأن الممنوع إيجارها، ولا يلزم منه عدم إلزامها بحرفة تعلمها. اهـ أي الممنوع إيجارها للخدمة ونحوها مما فيه تسليمها للمستأجر بدليل قولهم؛ لأن المستأجر يخلو بها وذا لا يجوز في الشرع، وعليه فله دفعها لامرأة تعلمها حرفة كتطريز وخياطة مثلا.اھ (3/312)-