امامت و جماعت

جماعت کی صف میں ایک آدمی کی جگہ رہنے جانے سے نماز کا حکم

فتوی نمبر :
70375
| تاریخ :
2024-01-17
عبادات / نماز / امامت و جماعت

جماعت کی صف میں ایک آدمی کی جگہ رہنے جانے سے نماز کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
میرا سوال یہ ہے، کہ کل ہم نے اسکول کی چھٹی ہونے کے بعد اسکول سے گھر جاتے وقت مسجد میں جا کر نماز پڑھی , جماعت چھوٹ گئی تھی ، اس وجہ سے ہم نے ہمارے دوست حافظ صاحب سے جماعت کرانے کو کہا ، ہم تین لوگ تھے ایک بندہ گھر سے وضو کرنے گیا , اسے آنے میں ذرا وقت لگنا تھا ، اس لئے ہم نے مسجد میں وضو کر کے نماز کے لئے اقامت کہی ، اتنے میں ایک لڑکا اور آیا تو ہم نے اسے بھی جماعت میں شامل ہونے کو کہا ، پھر ہم نے اپنے دوست کو امام بنا کے اس کے پیچھے نماز کی نیت باندھ لی ، لیکن جب ہم نیت باندھ چکے تھے تب وہ بندہ جسے ہم نے نماز میں شامل ہونے کو کہا تھا اس لڑکے نے میرے برابر میں کھڑے ہوکے اپنی نیت باندھ لی تو ہماری نماز ہوئی کہ نہیں ہوئی ؟ کیونکہ ہم نے سنا ہے کہ جب دو لوگ نماز پڑھیں تو ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکے پڑھیں اور میں امام کے پیچھے کھڑا تھا ، نیز ہمارا ایک اور ساتھی جو گھر میں وضو بنانے گیا تھا وہ 2 رکعت کے بعد آیا تو وہ اس شخص کے برابر میں کھڑا ہوگیا جماعت سمجھ کے کہ جو نماز اپنی پڑھ رہا تھا تو اس کا کیا حکم ہے ؟میں مانتا ہوں کہ یہ سوال سمجھنے آپ کو مشکل آئیگی ، لیکن آپ اس کا جواب ضرور دیجئے کیونکہ میں بہت پریشان ہو ں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ محلے کی مسجد میں جماعت ہوجانے کے بعد چونکہ دوبارہ جماعت سے نماز پڑھنا مکروہ ہے ، اس لئے اوّلاً سائل اور اس کے ساتھیوں کو چاہیئے تھا کہ جماعت سے نماز پڑھنے کے بجائے انفرادی طور پر نماز اداکر تے ، تاہم جب انہوں نے جماعت سےنماز ادا کی ، اور ابتداءً فقط دو افراد تھے ، تو ایسی صورت میں امام کے پیچھے کھڑا ہونے کے بجائے امام کے دائیں طرف ذرا پیچھے ہٹ کر کھڑاہونا چاہئے تھا ، اور اگر دوسرے مقتدی آنے کا یقین تھا ، تو بہتر صورت یہ تھی کہ کچھ انتظار کر کے دونوں مقتدی امام کے پیچھے کھڑےہو کر جماعت سے نماز ادا کرتے ، جبکہ سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائل اور اس کے ساتھیوں نے با جماعت جو نماز ادا کی ہے ، وہ شرعاً ادا ہو چکی ہے نماز لوٹا نے کی ضرورت نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الصحیح البخاری: عن النعمان بن بشیر یقول: قال النبی ﷺ لتسون صفوفکم او لیخالفن اللہ بین وجوھکم ( ج 1 ص 100 کتاب الاذان باب التسویۃ الصفوف عند الاقامۃ ط اشرفی ) ۔
وفی الدر المختار: ویکرہ تکرار الجماعۃ بأذان وإقامۃ فی مسجد محلۃ لا فی مسجد طریق أو مسجد لا إمام لہ ولا مؤذن الخ ( ج 1 ص 552 مطلب فی تکرار الجماعۃ فی المسجد ط سعید) ۔
وفی ردالمحتار: تحت (قولہ ویکرہ ) أی تحریماً لقول الکافی لا یجوز، والمجمع لا یباح، وشرح الجامع الصغیر إنہ بدعۃ کما فی رسالۃ السندی (قولہ بأذان وإقامۃ الخ ) عبارۃ فی الخزئن: أجمع مما ھنا ونصبھا: یکرہ تکرار الجماعۃ فی مسجد محلۃ بأذان وإقامۃ، إلا إذا صلی بھما فیہ أولا غیر أھلہ أو أھلہ لکن بمخالفۃ الأذان، ولو کرر أھلہ بدونھما أو کان مسجد طریق جاز إجماعاً، کما فی مسجد لیس لہ إمام ولا مؤذن ویصلی الناس فیہ فوجا فوجا، فإن الأفضل أن یصلی کل فریق بأذان إقامۃ علی حدۃ کما فی أمالی قاضیخان اھ و نحو فی الدرر، والمراد بمسجد محلۃ مالہ إمام وجماعۃ معلومون کما فی الدر وغیرھا الخ ( ج 1 ص 552 مطلب فی تکرار الجماعۃ ط سعید )۔
وفی ردالحتار: تحت (قولہ کرہ إجماعاً ) أی للمؤتم (الی قولہ ) (تتمہ) إذا اقتدا بإمام فجاء آخر یتقدم الامام موضع سجودہ کذا فی مختارات النوازل، وفی القھستانی عن الجلابی أن المقتدی یتأخر عن الیمین الی خلف اذا جاء آخر اھ وفی الفتح: ولو اقتدا واحد بآخر فجاء الثالث یجذب المقتدی بعد التکبیر ولو جذبہ قبل التکبیر لا یضرہ، وقیل یتقدم الامام اھ ومقتضاہ أن الثالث یقتدی متأخرا ومقتضی القول بتقدم الامام أنہ یقول بجنب المقتدی الأول، والذی یظھر أنہ ینبغی للمقتدی التأخر اذا جاء ثالث، فان تأخر والا جذبہ الثالث ان لم یخش افساد صلاتہ، فان اقتدی عن یسار الامام یشیر الیھا بالتأخیر ، وھو أولی من تقدمہ لأنہ متبوع، ولأن الاصطفاف خلف الامام من فعل المتقدمین لا الامام، فالأولی ثباتہ فی مکان وتأخر المقتدی، ویؤیدہ ما فی الفتح عن الصحیح المسلم قال جابر " سرت مع النبی ﷺ فی غزوۃ فقام یصلی فجئت حتی قمت عن یسارہ فأخذہ بیدی فأدرانی عن یمینہ، فجاء ابن الصخر حتی قام عن یسارہ فأخذہ بیدیہ جمیعا فدفعنا حتی اقامنا خلفہ " اھ وھذا کلہ عند الامکان وإلا تعیین الممکن، والظاھر أیضا أن ھذا اذا لم یکن فی القعدۃ الأخیرۃ والا اقتدی الثالث عن یسار الامام ولا تقدم ولا تأخر ( ج 2 ص 568 باب الامامۃ مطلب ھل الاساءۃ دون الکراھۃ أو افحش منھا ط سعید )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حمزہ منان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70375کی تصدیق کریں
0     883
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات