السلام علیکم !
محترم جناب ، میرا نام اسرار ہے ، میری شادی کو گیارہ سال ہوگئے ہیں، آٹھ سال تک میری شادی ٹھیک رہی ، جب تک میری بہنیں گھر پر تھیں ، جب سے میری بہنوں کی شادی ہوئی ہے تین سال سے میری بیوی نے لڑائی شروع کر دی ، بار بار امی کے گھر جاکر بیٹھ جاتی تھی ، ہم جا کر اس کو پھر لےآتے , آخر اُس نے کہا مجھے الگ گھر لے کر دو،میں نے الگ گھر دیا ،پھر بھی گھر پر نہیں رہتی تھی ،پانچ مہینے الگ رہنے کے بعد پھر سے ہم امی لوگوں کے ساتھ رہنے لگے، پھر بھی لڑائی کرتی ، پھر امی کے گھر بار بار جاتی، ایک مہینے میں 3 دفعہ گئی چار سے پانچ دن گزار کر آئی، پھر جب چھٹی بار میں اُس کو لے گیا، تو پھر بھی دل نہیں تھا ، مگر گھر آگئی، تین دن رہنے کےبعد دس محرم کوپھر سے کہنے لگی مجھے امی کے گھر جاناہے، میں نے کہا ابھی مت جاؤ میری جیب میں پیسے نہیں ہے ،وہ لڑائی کرنے لگی پھر اپنا سر دیوار پر مارنے لگی، میں نے اس کے بھائی اور امی کو بلا یا کہ اس کو سمجھاؤ، جب وہ لوگ آئے تو یہ چیخنے لگی کہ مجھے ان کے ساتھ جانا ہے ، میں نے قسم کھائی کہ تم نہیں جاسکتی ، اُس نےاپنے منہ پر ہاتھ پھیرا اور کہنے لگی تم دیکھنا میں کیسے جاتی ہوں ، پھر اپنے بھائی اور امی کے سامنے کہنے لگی اگر میں ابھی نہیں گئی تو رات کو نکل جاؤنگی ، پھر اس کے بھائی نے کہا ابھی اسکو لے جاتا ہوں دو دن بعد خود لے کر آؤنگا، جب اپنے بھائی کے ساتھ جانے لگی تو کہہ کر گئی کہ اپنے لئے شادی کرلو ،تم تو مردہی نہیں ہو، میں پھر اس گھر میں نہیں آؤنگی، اپنے لئے دوسری شادی کرو , مجھے تو وہ مرد ہی نہیں کہتی تھی، اور مجھے کہنے لگی اگر تم مرد ہو تو اپنی دوسری شادی کر کے دکھاؤ، جب میں نے اپنے لئے دوسری شادی کا فیصلہ کیا ، تو لڑکی کے باپ کو ساری بات بتائی تو اس نےکہا پہلے جاؤ اور اپنی پہلی بیوی سے بات صاف کرو ، جب میں اپنے باپ کے ساتھ بات کرنے گیا ، تو منگھوپیر میں میری خالہ رہتی ہے ،اُس کے شوہر کو بھی کال کی کہ آجاؤ ہم بات کرتے ہیں ، تو میری خالہ نے میری بیوی کو فون کر کے بتایا ،کہ اسرار اور اس کے ابو آپ کو لینے آرہے ہیں ، میری بیوی نے میری خالہ سے کہا تم اُن کے ساتھ مت آنا ،میں قرآن پہ بھی نہیں جاؤنگی، اور تم میرے باپ کی جگہ ہو اور میرے بھائی کے ساتھ پسٹل ہے ، وہ اُن پر بھی گولی چلائے گا، اور مجھ پربھی گولی چلائے گا ، اور میری موت کے ذمہ دار میرا شوہر اور میری خالہ ہوں گی، پھر ہم گھر واپس آئے کیوں کہ میں غریب آدمی ہو ں ، میں اس کو موت کے لیے گھرنہیں لا سکتا تھا، پھر میرا چھوٹا ماموں "دلدار" میری بیوی کے گھرگیا ، اور اُسے کہا میں تمہیں لینے آیا ہوں اتنی بات نہیں ہے ،بات ختم کرو اور میرے ساتھ چلو وہ ماموں کے ساتھ بھی نہیں آئی ، اور پھر میری مامی کو فون کیا ، اور کہا میرے ماموں کو بولو ہمارے مسئلے میں نہ بولے میں اسرار کی بیوی ہوں ، میں جانوں اور وہ لوگ اور ماموں کو بولو میں آپ کے کہنے پہ چلی بھی گئی، تو میں اسرار کے گھر جا کر خودکشی کروں گی ، پھر میر ےماموں نے کہا میں ایک غریب بندہ ہوں ،میں یہ ذمہ داری نہیں لے سکتا ، پھر میں نے اپنے لئے دوسری شادی کر لی، جب میری شادی ہوئی ،شادی کے بیس دن بعد میری بیوی نے کال کی اور کہا اب تو تم نے اپنے لئے دوسری شادی بھی کرلی اب میرے بارے میں کیا فیصلہ ہے ؟ میں نے کہا ابھی بھی تمہارا گھر ہے ، تم آسکتی ہو پھر اس نے کہا مجھے الگ گھر لے کر دو اور باپ کا ہم پر کوئی حق نہیں ، میرے ابو بیمار ہیں ، اور ہمارا کرایہ کا گھر ہے ، میری (21000) تنخواہ ہے، میں الگ الگ گھر نہیں لے کر دے سکتا ، اب میری بیوی کا یہ کہنا ہے ، کہ مجھے (10000) خرچہ دیاکرو، مزید یہ کہ شوہر مذکور بیوی کو رکھنا چاہتاہے ، اورسائل کے گھر پر نیچے دوکمرے اور اوپر ایک کمرہ ہے ، جس کے ساتھ سائل کچن اورباتھ روم بنواکر دینے کو تیار ہے ، جبکہ سائل کی خالہ کا کہنا ہے کہ شرعی اعتبار سے اس معاملہ کو ختم کرو ، ورنہ مہر کے علاوہ پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی اداکرنا پڑیگا ، جبکہ سائل حق مہرتین تولہ سونا ادا کر چکا ہے ۔
واضح ہوکہ شوہر کے ذمہ ناشزہ بیوی (یعنی جو مباح امور میں شوہر کی نافرمانی کرتی ہو ، اور بلاعذر شرعی شوہرکی اجازت کے بغیر اس کا گھر چھوڑکر میکہ چلی جائے) کا نان ونفقہ شرعاً لازم نہیں ہوتا، لہذاسائل کی پہلی بیوی اگر واقعۃً بلاکسی معقول وجہ کے میکہ چلی گئی ہو، اور شوہر (سائل)کے باربار اصراراور اسے اپنے رہائشی مکان کے اوپر منزل میں موجود کمرہ کے ساتھ الگ کچن و باتھ روم وغیرہ دینے پر رضامندی کے باوجود میکہ سے وہ لوٹ کر نہ آتی ہو ، تو ایسی صورت میں سائل پر مذکور پہلی بیوی کا نان و نفقہ دینا شرعاً لازم نہیں ، چنانچہ پہلی بیوی اور اس کے گھر والوں کا درجِ بالا طریقہ کار کے مطابق الگ رہائش دینے کے باوجود سائل سے الگ مکان , ماہانہ دس ہزار روپے اور جدائی کی صورت میں پانچ لاکھ جرمانہ کا مطالبہ کرنا شرعاًجائز نہیں ، بلکہ غیر شرعی مطالبات ہونے کی وجہ سے واجب الترک ہے ، جبکہ علیحدگی کی صورت میں مقررہ مہر (تین تولہ سونے ) کی ادائیگی کے باوجود دوبارہ حق مہر کی ادائیگی کا مطالبہ کرنا بھی غیر شرعی ہے ، اور شوہر پر اس کی ادایئگی بھی لازم نہ ہوگی ، لہذا سائل کی بیوی اور اس کے گھر والوں کو چاہیئے کہ وہ بے جا مطالبات کے بجائے اپنے اس گھر کے بسانے کی فکر و کوشش کریں، وگرنہ وہ نان و نفقہ سمیت کسی بھی قسم کی سہولیات کے مطالبہ کی حقدار نہ ہوگی ۔
کما فی الدرالمختار: (ولو هي في بيت أبيها) إذا لم يطالبها الزوج بالنقلة به يفتى، وكذا إذا طالبها ولم تمتنع أو امتنعت (للمهر أو مرضت في بيت الزوج)الی قولہ(لا) نفقة لاحد عشر: مرتدة، ومقبله ابنه، ومعتدة موت، ومنكوحة فاسدا وعدته، وأمة لم تبوأ وصغيرة لا توطأ، و (خارجة من بيته بغير حق) وهي الناشزة حتى تعود ولو بعد سفره، خلافا للشافعي اھ
وفی ردالمحتار: تحت قوله (ولو هي في بيت أبيها) تعميم لقوله فتجب للزوجة، وهذا ظاهر الرواية، فتجب النفقة من حين العقد الصحيح وإن لم تنتقل إلى منزل الزوج إذا لم يطالبها. وقال بعض المتأخرين: لا تجب ما لم تزف إلى منزله، وهو رواية عن أبي يوسف واختاره القدوري وليس الفتوى عليه، وتمامه في الفتح (قوله إذا لم يطالبها إلخ) الأخصر والأظهر أن يقول به يفتى إذا لم تمتنع من النقلة بغير حق (کتاب الطلاق باب النفقۃ ج 3 ص 575 ط :سعید)۔