السلام علیکم مولانا صاحب ! میرا سوال یہ ہے کہ میرا میری زوجہ محترمہ سے جھگڑا ہوا کال پر، اور میں نے غصہ میں آکر اسے ڈرانے کے لیے "دوبار طلاق دیا گیا "کہا ،اتنے میں اس نے سن کر کال کاٹ دی،اور مجھے میسج کیا کہ دوبارطلاق دے دی اب کال نہ کرو،پر میں اُسے اور ڈرانے کے لیے کال کرتا رہا،پر اس نے نہیں سنی ،اور میں نےآخر میں کہا کہ تم سنو یا نہ سنو میری طرف سے اب ختم ہے،کیا اس صورت میں طلاق ہوجاتی ہے کیا؟
سائل نے جب بیوی کو فون کال پر مذکور الفاظ"دو بار طلاق دیا گیا"کہے،اگرچہ یہ الفاظ ڈرانے دھمکانے کی نیت سے کہے ہوں تب بھی اس سے سائل کی بیوی پر دو طلاقیں واقع ہوچکی تھیں،چنانچہ ان الفاظ کے کہنے کے بعد بیوی کا فون کال نہ سننے پر سائل کے مذکور الفاظ "تم سنو یا نہ سنو میری طرف سے اب ختم ہے"اگرطلاق کی نیت سے ہو تو اس سے سائل کی بیوی پر تیسری طلاق بھی واقع ہوکر حرمتِ مُغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،لہذا میاں بیوی پر ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنا لازم ہےجبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی الدر المختار: باب الكنايات (كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب الخ (ج3 ص296 کتاب الطلاق ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية: (الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي الخ (ج1 ص374 کتاب الطلاق،الباب الثانی،الفصل الخامس فی الکنایات ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: ولو قال لها لا نكاح بيني وبينك أو قال لم يبق بيني وبينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى الخ(ج1 ص375 کتاب الطلاق،الباب الثانی،الفصل الخامس فی الکنایات ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز الخ (ج1 ص473 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ)۔