السلام علیکم! میں نے اپنی بیوی کو اس کی غیر موجودگی میں صرف ایک بار طلاق کا لفظ کہا، جس کے چار افراد گواہ تھے، لیکن میرے دستخط شدہ قانونی کاغذات میں تین بار "طلاق" کا لفظ تھا۔ کیا یہ طلاق 3 طلاقیں اٹل ہیں ؟ یا ہم اسے پہلی طلاق کے طور پر شمار کرسکتے ہیں؟
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ پہلی دفعہ چار گواہوں کی موجودگی میں ایک طلاق دینے کے کتنے عرصے بعد سائل نے تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامہ بنوایا تھا نیز نکاح کے بعد سائل اور اسکی بیوی کے درمیان ازدواجی تعلقات قائم ہوئے یا نہیں؟ تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر نکاح کے بعد سائل اور اسکی بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہوا ہو اور اس کے بعد سائل نے صریح الفاظ میں ایک طلاق دینے کے بعد دورانِ عدت تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامہ بنوا کر اس پر دستخط کیے ہوں تو اس سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
قال اللہ تعالی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ اھ ( سورۃ البقرۃ: 230 )۔
و فی الھندیۃ: وإن کانت مرسومۃ یقع الطلاق نوی أو لم ینو الخ ( کتاب الطلاق ج1 ص 319 ط: ماجدیۃ)۔