کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میری بیٹی ہما بنت محمد نصیر احمد کو اس کے شوہر وقار احمد ولد محمد حسن نے تحریری طورپر تین طلاقیں دیدی ہیں،طلاق نامہ ساتھ منسلک ہے، اب معلوم کرنا ہے کہ اس سے طلاقیں ہوگئیں کہ نہیں؟ اگر طلاق ہو گئی ہے تو جدائی کے بعد سامانِ جہیز کا کیا حکم ہے؟ وہ لڑکی کا ہے یا لڑکے کا ؟ اگر لڑکا نہ دے تو ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
منسلکہ طلاق نامہ اگر مطابق اصل ہو اور سائل کے داماد نے اپنے ہوش و حواس میں بلا کسی جبر و اکراہ کے اس پر دستخط کردئیے ہو اور نکاح کے بعد میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہواہو، تو اس سے اس کی بیوی مسماۃ ہما بنت نصیر احمد پر طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتاہے، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں،اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، جبکہ سائل کی بیٹی ایام ِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی،
جبکہ سائل کی بیٹی کو شادی کے موقع پر جہیز میں جو کچھ دیا گیا ہے وہ شرعاً سائل کی بیٹی کی ملکیت ہے، لہذا اب طلاق ہوجانے کی صورت میں شوہر کے ذمہ جہیز کا سامان سائل کی بیٹی کو واپس کرنا لازم اور ضروری ہے، سائل کے داماد کے لئے جہیز کے سامان پر قبضہ کرنا شرعاً جائز نہیں، اس پر لازم ہے کہ جہیز کا سامان سائل کی بیٹی کو حوالہ کرکے مؤاخذہ دنیوی و اخروی سے سبکدوشی حاصل کرے، بصورت دیگر سائل کی بیٹی اپنے حق کی وصولیابی کے لئے قانونی چارہ جوئی کی بھی مجاز ہوگی۔
کما في الصحيح للبخاري : عن عائشة رضى الله عنها جائت امرأة رفاعة القرظى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقى فابت، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير فانما معه مثل هدبة الثوب، فقال اتريدين أن ترجعی إلى رفاعة ؟ لا، حتى تذوقى عسيلته ويذوق عسيلتك اھ (ج ٢ ص ١٢٤٣ ، باب شهادۃ المختبی، ط: البشرى)۔
وفی رد المحتار: تحت (قوله طلقت بوصول الكتابة ) أي اليها ( إلى قوله) ولو استكتب من آخر كتاباً بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه و عنونه وبعث به إليها فاتاها وقع الخ ( ج ٣ ص 246 ط: سعید)۔
وفیہ ایضاً: کل احد یعلم ان الجہاز للمرأۃ اذا طلقہا تأخذہ کلہ،واذا ماتت یورث عنہا الخ (ج 3، ص 158، ط: سعید)۔
وفیہ ایضاً: وحکمہا ثبوت الملک للموہوب لہ غیر لازم الخ (ج 5، ص 688)۔