میرا سوال ہےکہ ایک شخص جو اپنی بہو کے ساتھ ناجائز تعلق (زنا) قائم کرے تو شریعت میں کیا حکم ہے ؟ رشتہ دار ہونے کی وجہ سے ہمارے لیے کیا حکم ہے ،ان پر خرچ کرنا چاہیے یا نہیں ؟ ان کے گھر سے کچھ کھا پی سکتے ہیں ، ان کے ساتھ تعلقات، لین دین کر سکتے ہیں؟
سوال میں ذکردہ تفصیلات اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہوں ، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور الزام تراشی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اور واقعۃً شخص مذکور اپنی بہوکے ساتھ زنا کا مرتکب ہوچکاہو، اور شوہر اس بات کی تصدیق بھی کردے تو اس کی وجہ سے مذکور عورت (بہو)اپنے شوہر پر ہمیشہ کیلئے حرام ہوچکی ہے ، لہذا میاں بیوی دونوں کا ایک ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں ، بلکہ بیٹے پر لازم ہے کہ الفاظ متارکت (میں نے چھوڑدیا ،میں نے طلاق دیدی) وغیرہ کہہ کر بیوی کو علیحدہ کردے ، تاکہ عدت کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کر سکے ، اور مذکور دونوں مرد عورت اپنے اس گناہ پر بصدق دل توبہ و استغفار کریں ، اور آئندہ دوبارہ اس قسم کے ناجائز تعلقات سے مکمل اجتناب کریں ، تاہم اگر وہ ضرورت مند ہو ں تو ان پر خرچ کیا جاسکتا ہے ،اور ان کے گھر آنے جانے اورکھانے پینے کی گنجائش ہے ۔
قال اللہ تعالیٰ:{وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ[لقمان: 15]
وفی الھندیۃ: فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وإن علت وابنتها وإن سفلت، وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني وأجداده وإن علوا وأبنائه وإن سفلوا، كذا في فتح القدير.(الباب الثالث فی بیان المحرمات القسم الثانی المحرمات بالصھریۃج1 ص274ط:ماجدیۃ)۔