السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص ناصر نے اپنے بھانجے عادل سے اس کے چھوٹے بھائی عارف کی شکایت کی کہ اس کا بھائی عارف نشہ کرتا ہے ، جس کے جواب میں عادل نے کہا کہ اس نے توبہ کرلی ہے اور اس نے مجھے خود بتایا ہے کہ اب وہ نشہ نہیں کرتا ، اس پر ناصر اور عادل کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور عادل نے کہا کہ اگر عارف نشہ کرتا ہے تو میری بیوی کو تین طلاق، پھر جب عارف کو بلا کر پوچھا گیا تو اس نے اقرار کر لیا کہ وہ اب بھی نشہ کرتا ہے ، اب عادل کا کہنا ہے کہ میں نے تو اپنے علم کی بنیاد پرکہا تھا کہ وہ اب نشہ نہیں کرتا، کیونکہ عارف نے کہا تھا کہ وہ اب توبہ کر چکا ہے ، اب اس صورت میں کیا طلاق واقع ہو چکی ہے یا نہیں ؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔(صورتِ مسئولہ میں تمام نام فرضی ہیں لیکن واقعہ حقیقی ہے )
سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق جب مسمی عادل نے یہ الفاظ "اگر عارف نشہ کرتا ہے تو میری بیوی کو تین طلاق" کہے تو اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں معلق ہو چکی تھیں، چنانچہ اس کے بعد جب مسمی عارف نے نشہ کرنے کا اعتراف کر لیا تو شرط پائی جانے کی وجہ سے اسکی بیوی پر تینوں معلق طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والےتعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
قال اللہ تعالی : فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ الآیۃ ( آیتـ 230 سورۃ البقرۃ )
وفی اعلاء السنن: عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ: ثلاث جدھن جد وھزلھن جد، النکاح والطلاق والرجعۃ (کتاب الطلاق باب عدم صحۃ الطلاق الخ ج11 صـ 216 ط:دار الکتب العلمیۃ)
وفی الدر المختار: والفاظہ: صریح، ملحق بہ وکنایۃ (ومحلہ المنکوحۃ) وأھلہ زوج عاقل بالغ مستیقظ الخ (کتاب الطلاق ج 3 صـ 230 ط: سعید)
وفیہ ایضاً: (ویقع بھا) أی بھذہ الألفاظ وما بمعناھا من الصریح الخ (کتاب الطلاق باب الصریح ج 3 صـ 238 ط: سعید)
وفی التاتارخانیۃ: فقال الرجل: إن ھو فقیہ فأنت طالق ثلاثا! فلما اصبحت (إلی قولہ) ولکن المرأۃ طالق فی القضاء لأنہ قد ظھر عند القاضی وعند الناس أنہ فقیہ فیؤخذ بالظاھر اھ (کتاب الطلاق الفصل السابع عشر فی الأیمان بالطلاق ج3 صـ 519-518 ط: ادارۃ القرآن)
و فی الھدایۃ: وإن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ أو ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً ویدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا (إلی قولہ) ویزاد علی النص بالحدیث المشھور و ھو قولہ علیہ السلام لا تحل للأول حتی تذوق عُسیلۃ الآخر الخ (کتاب الطلاق فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ج 2 صـ 409 ط: قدیمی)