کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمی مومن خان ولد قاسم خان نے اپنی بیوی مسماۃ زبیدہ بنت محمد ہارون کے مطالبۂ طلاق پر جاکر اسٹامپ پیپر والے سے تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامہ بنواکر اس پر دستخط کردیا ، اس وقت میرے دماغ نے کام نہیں کیا اور ہمیں لگتا ہے کہ ہم پر کسی نے کچھ کیا ہے ، اس وجہ سے ہمارے درمیان یہ طلاق کا معاملہ وقوع پذیر ہوا تو اب یہ معلوم کرنا ہے کہ اس منسلکہ طلاق نامہ کی رو سے ہماری کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟ کیونکہ ہم ساتھ رہنا چاہتے ہیں ۔
واضح ہو کہ غصہ اور جذبات کی حالت میں دی جانی والی طلاق بھی شرعا واقع ہو جاتی ہے ،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب ہوش و حواس میں تین طلاقوں پر مشتمل منسلکہ طلاق نامہ پر دستخط کر دیے تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزرنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ، اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایّامِ عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے شخص سے اپنا عقدِ نکاح کرے چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے تو بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر پر شرعی گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا تاکہ زوجِ اول کے لئے عورت حلال ہو جائے, مکروہِ تحریمی ہے ، اور اس پر احادیثَِ مبارکہ میں وعید وارد ہوئی ہے ، لہذا اس حلالہ سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
کما فی اعلاء السنن : عن ابی ھریرۃ قال : قال : رسول اللہ صلعم : ثلاث جدھن جد و ھزلھن جد النکاح ، الطلاق ، و الرجعۃ ( ج۔11 ۔ ص۔ 216 ) ۔
وفی رد المحتار: تحت (قولہ طلقت بوصول الکتاب) ای الیھا (الی قولہ)ولو استکتب من آخر کتابا بطلاقھا وقرائہ علی الزوج وختمہ وعنونہ وبعث بہ الیھا فاتاھا وقع الخ(ج3 ص246)۔
کما فی بدائع الصنائع: واما الطلقات الثلاث فحکمھا الاصلی ھو زوال الملک وزوال المحلیۃ ایضا ، حتی لا یجوز لہ نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر الخ (فصل۔حکم الطلاق الثلاث ۔ج 3 ص 187)۔