ہدیہ

زندگی میں تقسیمِ جائیداد کا طریقہ کار

فتوی نمبر :
70587
| تاریخ :
2024-01-28
معاملات / مالی معاوضات / ہدیہ

زندگی میں تقسیمِ جائیداد کا طریقہ کار

السلام علیکم
1994 میں ہم گاؤں سے شہر میں شفٹ ہوئے ،شہر کی زمین جو گھریلو تھی، وہ والد صاحب نے تینوں بیٹوں کے نام لگوا دی جو کہ ساڑھے تین مرلے ہے، 2012 میں ان سب کی شادیاں پانچوں بہن بھائیوں کی ہو گئیں اور اس وقت پھر والدین کی موجودگی میں سب بہنوں کو یہ وراثت تقسیم کرنے کے لئے بلایا گیا تو سب بہنوں نے اور ان کے ساتھ خاوند بھی تھے کہ ہم اس میں حصہ نہیں لیتے، مکان کی قیمت جو کہ22 لاکھ روپے اس وقت مقرر کی گئی تو بہنوں نے باری باری کہا کہ ہم اس میں سے حصہ نہیں لیں گے، اس کے بعد پھر وہ وراثت جو تھی وہ چار حصوں میں تقسیم کی گئی تین بیٹوں کے حصے اور ایک حصہ والدین کے لئے , اور پھر دو بھائیوں نے الگ ہو کے اپنا مکان بنا لیا اور والدین جس کے ساتھ رہ رہے تھے ،اس کے ساتھ ایک حصہ برقرار رہا، والدین اب موجود ہیں کیا اس طرح وراثت سے بہنوں کا حصہ ادا ہو جاتا ہے یا نہیں ہوتا ؟ اور اگر نہیں ہوتا تو ان کا حصہ کتنا بنتا ہے؟ دو بھائیوں کو ان کا ساڑھے پانچ پانچ لاکھ دیا گیا 22 لاکھ میں سے، کیا بہنوں کا اس طرح سے اپنا حصہ نہ لینا شریعت کی روشنی میں ان کا حق معاف ہو جاتا ہے اور ایک بھائی جس کے ساتھ والدین رہ رہے ہیں وہ یہ کہہ رہا ہے کہ بہنوں کو میں نے کچھ حصہ ان کی بیٹیوں کی شادی میں پیسے کے امداد کے طور پر بھی دیا تھا ،کیا اس طرح بھی اس نیت سے ادا ہو جاتا ہے اور ایک بہن کو اس کے نکاح میں جہیز کے سامان کے لئے بھی کچھ پیسے دیے تھے ،کیا یہ بھی اس وراثت کی ادائیگی میں ہو جاتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ اس میں جس طرح چاہے جائز تصرف کر سکتا ہے، اس پر اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد تقسیم کرنا لازم نہیں اور نہ ہی کسی بیٹے بیٹی کو اس میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق ہے، تاہم اگر والد اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو یہ جائز ہے مگر تمام اولاد کے درمیان برابری کا معاملہ کرے ، لڑکوں کو نوازنا اور لڑکیوں کو محروم کردینا شرعاً درست نہیں، لہذا سائل کے والد کو چاہیئے تھا کہ جائیداد تقسیم کرتے وقت بیٹوں بیٹیوں سب میں برابر تقسیم کرتے تاکہ بیٹیوں کی دل آزاری نہ ہوتی ، تاہم جب والد نے مذکور جائیداد اپنے تینوں بیٹوں کو مالکانہ قبضہ کے ساتھ تقسیم کر کے ان کے حوالہ کردی تو تینوں بیٹے اس جائیداد کے مالک بن گئے ہیں، لہذا بیٹیوں کو اپنے بھائیوں سے مطالبہ کا حق حاصل نہیں، البتہ والدین کے انتقال کے وقت ان کی ذاتی ملکیت میں جو کچھ رہ جائے اس ترکہ میں بیٹوں کی طرح بیٹیاں بھی اپنے حصۂ شرعیہ کے بقدر حقدار ہونگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ الآیۃ (آیتـ 90 سوارۃ النحل)
کما فی بدائع الصنائع: وینبغی للرجل أن یعدل بین أولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ وتعالی "إن االلہ یأمر بالعدل والإحسان (إلی قولہ) ولأن فی التسویۃ تألیف القلوب والتفضیل یورث الوحشۃ بینھم فکانت التسویہ بینھم أولی ولو نحل بعضاً وحرم بعضاً جاز من طریق الحکم لأنہ تصرف فی خالص ملکہ لاحق لأحد فیہ الخ (کتاب الھبۃ فصل واما الشرائط بانواع ج6 صـ 127 ط: سعید)
وفی الدر المختار: (وتتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل (ولو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ) والاصل ان الموھوب ان مشغولا بملک الواھب منع تمامھا وان شاغلا لا الخ(کتاب الھبۃ ج6 ـ 691-690 ط: سعید)
وفیہ ایضاً: وھو المیراث وسمی فرائض لأن اللہ تعالی قسمہ بنفسہ وأوضحہ (إلی قولہ) وقیل لتعلقہ بالموت الخ (کتاب الفرائض ج6 صـ 757 ط: سعید)
وفی خلاصۃ الفتاوٰی: رجل لہ ابن وبنت اراد أن یھب لھما شیئا فالأفضل ان یجعل للذکر مثل حظ الأنثیین عند محمد رحمہ اللہ الخ (کتاب الھبۃ الجنس الثانی ج 4 صـ 400 ط: رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کریم یعقوب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70587کی تصدیق کریں
0     487
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کسی کو ہدیہ یا گفٹ کرنے کا شرعی طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   ہدیہ 1
  • کیا کسی ہندو کا تحفہ قبول کیا جاسکتا ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   ہدیہ 0
  • کوئی چیز ہبہ کر کے واپس لینا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • طلاق کے بعد شوہر کونسے گفٹ واپس لے سکتاہے؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • والد کا کسی ایک بیٹے کو ہدیہ دینا

    یونیکوڈ   ہدیہ 3
  • قبضہ دیے بغیر , فقط کاغذات میں مکان نام کرنے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • ماں کے لئے اپنی اولاد میں سے کسی ایک بیٹے کو گھر ہدیہ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بیٹے کو ہبہ کردہ مکان میں بیٹیوں کے حصہ کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • انٹرسٹ فری پراویڈنٹ فنڈ میں ملنےوالی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • اپنی اولاد کے درمیان زندگی میں تقسیمِ جائیداد کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • والد کا بیٹوں کو گھر ہدیہ کرنے کے بعد بیٹیوں کا اس میں مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • باپ کے لئے تمام اولاد کے ساتھ برابری کا معاملہ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں تقسیم جائیداد کا حکم اور طریقۂ کار

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • کیا زندگی میں اپنے بہن بھائیوں اور ان کی اولاد میں جائیداد تقسیم کی جا سکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 1
  • بیوی کے لیے شوہر کو ہدیہ کئے ہوئے سونے کا استعمال جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • والد مرحوم کی جانب سے زندگی میں دی جانے والی چیز میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بڑے بیٹے نے ماں کے ساتھ رہتے ہوئے, ماں کے پلاٹ پر گھر تعمیر کیا

    یونیکوڈ   ہدیہ 1
  • قادیانی کمپنی کی تشہیری مہم میں شریک ہو کر گرانٹ وصول کرنا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • اولاد کے درمیان اپنی زندگی میں تقسیم جائیداد کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بہن کے لئے بھائی سے والد کی طرف سے دی گئی جائیداد میں مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • مکان کی رقم اولاد کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں اولاد کے درمیان تقسیمِ جائیداد کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • نکاح میں بیوی کو شوہر کی جانب سے دیے گئے تحفوں کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
Related Topics متعلقه موضوعات