السلام علیکم
1994 میں ہم گاؤں سے شہر میں شفٹ ہوئے ،شہر کی زمین جو گھریلو تھی، وہ والد صاحب نے تینوں بیٹوں کے نام لگوا دی جو کہ ساڑھے تین مرلے ہے، 2012 میں ان سب کی شادیاں پانچوں بہن بھائیوں کی ہو گئیں اور اس وقت پھر والدین کی موجودگی میں سب بہنوں کو یہ وراثت تقسیم کرنے کے لئے بلایا گیا تو سب بہنوں نے اور ان کے ساتھ خاوند بھی تھے کہ ہم اس میں حصہ نہیں لیتے، مکان کی قیمت جو کہ22 لاکھ روپے اس وقت مقرر کی گئی تو بہنوں نے باری باری کہا کہ ہم اس میں سے حصہ نہیں لیں گے، اس کے بعد پھر وہ وراثت جو تھی وہ چار حصوں میں تقسیم کی گئی تین بیٹوں کے حصے اور ایک حصہ والدین کے لئے , اور پھر دو بھائیوں نے الگ ہو کے اپنا مکان بنا لیا اور والدین جس کے ساتھ رہ رہے تھے ،اس کے ساتھ ایک حصہ برقرار رہا، والدین اب موجود ہیں کیا اس طرح وراثت سے بہنوں کا حصہ ادا ہو جاتا ہے یا نہیں ہوتا ؟ اور اگر نہیں ہوتا تو ان کا حصہ کتنا بنتا ہے؟ دو بھائیوں کو ان کا ساڑھے پانچ پانچ لاکھ دیا گیا 22 لاکھ میں سے، کیا بہنوں کا اس طرح سے اپنا حصہ نہ لینا شریعت کی روشنی میں ان کا حق معاف ہو جاتا ہے اور ایک بھائی جس کے ساتھ والدین رہ رہے ہیں وہ یہ کہہ رہا ہے کہ بہنوں کو میں نے کچھ حصہ ان کی بیٹیوں کی شادی میں پیسے کے امداد کے طور پر بھی دیا تھا ،کیا اس طرح بھی اس نیت سے ادا ہو جاتا ہے اور ایک بہن کو اس کے نکاح میں جہیز کے سامان کے لئے بھی کچھ پیسے دیے تھے ،کیا یہ بھی اس وراثت کی ادائیگی میں ہو جاتا ہے؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ اس میں جس طرح چاہے جائز تصرف کر سکتا ہے، اس پر اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد تقسیم کرنا لازم نہیں اور نہ ہی کسی بیٹے بیٹی کو اس میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق ہے، تاہم اگر والد اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو یہ جائز ہے مگر تمام اولاد کے درمیان برابری کا معاملہ کرے ، لڑکوں کو نوازنا اور لڑکیوں کو محروم کردینا شرعاً درست نہیں، لہذا سائل کے والد کو چاہیئے تھا کہ جائیداد تقسیم کرتے وقت بیٹوں بیٹیوں سب میں برابر تقسیم کرتے تاکہ بیٹیوں کی دل آزاری نہ ہوتی ، تاہم جب والد نے مذکور جائیداد اپنے تینوں بیٹوں کو مالکانہ قبضہ کے ساتھ تقسیم کر کے ان کے حوالہ کردی تو تینوں بیٹے اس جائیداد کے مالک بن گئے ہیں، لہذا بیٹیوں کو اپنے بھائیوں سے مطالبہ کا حق حاصل نہیں، البتہ والدین کے انتقال کے وقت ان کی ذاتی ملکیت میں جو کچھ رہ جائے اس ترکہ میں بیٹوں کی طرح بیٹیاں بھی اپنے حصۂ شرعیہ کے بقدر حقدار ہونگی۔
کما قال اللہ تعالی: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ الآیۃ (آیتـ 90 سوارۃ النحل)
کما فی بدائع الصنائع: وینبغی للرجل أن یعدل بین أولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ وتعالی "إن االلہ یأمر بالعدل والإحسان (إلی قولہ) ولأن فی التسویۃ تألیف القلوب والتفضیل یورث الوحشۃ بینھم فکانت التسویہ بینھم أولی ولو نحل بعضاً وحرم بعضاً جاز من طریق الحکم لأنہ تصرف فی خالص ملکہ لاحق لأحد فیہ الخ (کتاب الھبۃ فصل واما الشرائط بانواع ج6 صـ 127 ط: سعید)
وفی الدر المختار: (وتتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل (ولو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ) والاصل ان الموھوب ان مشغولا بملک الواھب منع تمامھا وان شاغلا لا الخ(کتاب الھبۃ ج6 ـ 691-690 ط: سعید)
وفیہ ایضاً: وھو المیراث وسمی فرائض لأن اللہ تعالی قسمہ بنفسہ وأوضحہ (إلی قولہ) وقیل لتعلقہ بالموت الخ (کتاب الفرائض ج6 صـ 757 ط: سعید)
وفی خلاصۃ الفتاوٰی: رجل لہ ابن وبنت اراد أن یھب لھما شیئا فالأفضل ان یجعل للذکر مثل حظ الأنثیین عند محمد رحمہ اللہ الخ (کتاب الھبۃ الجنس الثانی ج 4 صـ 400 ط: رشیدیہ)