حمل میں مرد کا تین طلاق دینا" میں تمہیں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں" ۔
واضح ہو کہ حالت حمل میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا صورت مسؤلہ میں اگر شوہر نے اپنی حاملہ بیوی کو مذکور الفاظ"طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں " کہہ دیئے تو اس سے بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا ، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ورنہ وہ سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایام عدت (وضع حمل) کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ۔
کما فی الدر المختار : ( و حل طلاقھن ) ای الآیسۃ و الصغیرۃ و الحامل ( عقب وطء ) لان الکراھۃ فیمن تحیض لتوھم الحبل و ھو مفقود ھنا الخ ( کتاب الطلاق ، ج 3 ، ص 232 ، ط : سعید ) ۔
وفیہ ایضاً : و ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحاً صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا کذا فی الھدایۃ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ الخ ، ج 1 ، ص 473 ، ط : ماجدیہ ) ۔