السلام علیکم ! میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے شوہر نے آج سے دس سال قبل مجھے تین بار طلاق کہا " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " یہ الفاظ تین بار کہے ، اس وقت میری بیٹی دو ماہ کی تھی ، اور بھی بہت ساری مجبوریاں تھیں ، میں نے کسی کو نہیں بتایا ، چھ سال سے ہمارا میاں بیوی والا رشتہ نہیں ، پھر ایک بار لڑائی ہوئی میں نے کہا تو مجھے لکھ کر بھی دیدے، پھر دوسری بار اور تیسری بار بھی لکھ کر دیا ہے ، اور بہت بار جب لڑائی ہوئی تو یہ کہتے کہ میری طرف سے تم فارغ ہو تیرا میرا رشتہ ختم ہے میرے گھر سے چلی جاؤ ، برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں ۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اور واقعۃً سائلہ کے شوہر نے دس سال قبل سائلہ کو تین طلاقیں صریح الفاظ میں دیدی ہوں تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے اور بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو چکی ہیں ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا اور تین طلاقوں کے بعد جتنا عرصہ میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہے ہیں ، دونوں سخت گناہ گار ہوئے ہیں ، جس پر بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ کیلئے دوبارہ اس قسم کے ناجائز تعلقات قائم کرنے سے اجتناب لازم ہے ، جبکہ سائلہ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما فی الھندیۃ : و ان کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا کذا فی الھدایۃ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ، ج 1 ، ص 473 ، ط : ماجدیہ ) ۔