میرے شوہر نے غصے کی حالت میں تین (۳) بار طلاق کا لفظ لکھ کر واٹس ایپ کر دیا، اس طرح لکھا ہے کہ طلاق ، طلاق، طلاق، جاتی جاو یہ الفاظ سن کر جاؤ ، آج با قاعدہ طور پر ہوگئی ہے ، یہ اصل الفاظ لکھے اور اس وقت بیوی حیض میں تھی، یہ جنوری 2024 کی بات ہے، رخصتی نہیں ہوئی تھی، لیکن دونوں کے بیچ میں ہمبستری ہو چکی ہے ، اور اس سے پہلے دسمبر 2023 میں بھی ہمبستری ہو چکی ہے ، اب جب یہ اوپر الفاظ واٹس ایپ پر لکھ کر سینڈ کیے ہیں، اس کے کچھ سیکنڈ بعد معافی مانگی اور رجوع کر لیا، اس کے بعد بھی ہمبستری ہو گئی ہے ، اب سوال یہ ہے کہ کیا واقعی طلاق واقع ہو گئی ہے ؟ اگر ہو گئی ہے ، لیکن ایک دوسرے کے ساتھ ہی رشتہ رکھنا ہے تو کیا دوبارہ نکاح پڑھوایا جا سکتا ہے ؟
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی پر حقیقت ہو اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو ،اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے بذریعہ واٹس ایپ مذکور الفاظ "طلاق ، طلاق ، طلاق، لکھ کر بھیجے ہوں، تو اس سے سائلہ پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں، اور طلاق کے بعد جو ہمبستری کی ہے تو اس کی وجہ سے دونوں سخت گنہگار ہوئے ہیں،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کریں اور آئندہ دوبارہ اس قسم کے ناجائز کاموں سے مکمل اجتناب کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے ، جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی مسلمان سے اپنا عقدِ نکاح کرے، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے بعد فوراً یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے ، تو بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا، تا کہ زوجِ اول دوبارہ اس کے ساتھ عقدِ نکاح کرے , یہ مکر وہِ تحریمی ہے اور اس پر حدیث میں وعید یں وارد ہوئی ہیں ، لہذا ایسے حلالہ سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
كما في الصحيح للبخاري : عن عائشة رضى الله عنها جائت امرأة رفاعة القرظى الی النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقى فابت، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير فانما معه مثل هدبة الثوب، فقال اتريدين أن ترجعى إلى رفاعة ؟ لا ، حتى تذوقى عسيلته ويذوق عسيلتك اهـ (ج ٢ ص ١٢٤٣ ، باب شهادة المختبى، ط: البشرى)۔
وفي الهندية : وإن كان الطلاق ثلاثا فى الحرة ، أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجاً غيره نكاحاً صحيحاً يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية الخ (فصل في ما تحل له به المطلقة ، ج ١، ص ٤٣٧، ط: ماجدية) -