کیا فرماتے ہیں، مفتیان کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ ہم میاں بیوی کے درمیان 24 جنوری 2024 کو صبح کے وقت لڑائی جھگڑا ہوا ، اس دوران ہماری بیٹی (جو اٹھارہ سال کی ہے) اپنے کمرے سے اٹھ کر آگئی ، تو میری بیوی نے بیٹی سے کہا کہ اپنے ماموں کو فون ملا، جب بیٹی نے فون ملایا تو اس وقت شوہر اور بیوی کے بھائی کے درمیان طلاق کے متعلق بات چیت ہوئی جس کے متعلق میاں بیوی کے بیان میں اختلاف ہے۔ بیوی کا بیان یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر بیان دیتی ہوں کہ میں جو کچھ کہوں گی سچ کہوں گی، سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گی ، میں نے اگر اپنے بیان میں جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لیا تو اس کی قبر و آخرت کی جواب دہی کے لئے میں تیار ہوں، ہوا یہ کہ جب میرے شوہر فون پر بات کر رہے تھے تو وہ انتہائی غصے میں تھے، لڑائی جھگڑے کا ماحول تھا ، اس نے میرے ہاتھ سے فون چھین کر میرے بھائی سے کہا کہ " میں آپ کی بہن کو طلاق دے رہا ہوں". ہوں " میرا اس کے ساتھ گزارا نہیں آکر اسے لے جائیں ، تو اس کے فوراً بعد میں نے چیخ کر کہا کہ میں آپ پر حرام ہوگئی ہوں، اور پھر کچھ مزید بات چیت کے بعد وہ تبلیغی اجتماع پر چلے گئے۔ جبکہ شوہر کا حلفیہ بیان یہ ہے کہ میں جو کہوں گا سچ کہوں ، سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں ، اگر میں نے اپنے بیان میں جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لیا تو اس کا وبال مجھ پر ہوگا اور میں قبر و آخرت کی جواب دہی کے لئے تیار ہوں ، ہمارے درمیان 24 جنوری 2024 کو جو لڑائی جھگڑا ہوا ( جسکی تفصیل سابقہ تحریر میں موجود ہے) اس دوران میں نے اپنے نسبتی بھائی کو فون پر یہ بتایا تھا کہ میرا اس کے ساتھ گزارا نہیں ، میں اسے طلاق دیدو نگا ، اس کے علاوہ میں نے اس موقع پر طلاق کا کوئی لفظ اور جملہ نہیں بولا، بیٹی جو عاقلہ بالغہ ہے اور اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچ چکی ہے ، اس کا کہنا یہ ہے کہ اس موقع پر میں نےاپنے ابو کی زبان سے جو الفاظ سنے تھے وہ یہ تھے ، انہوں نے میرے ماموں کو فون پر کہا " میں اسے ( یعنی میری ماں کو) طلاق دے رہا ہوں ، آکر اسے لے جائیں ، بیوی کے بھائی سے بذریعہ فون رابطہ ہوا ، ان کا کہنا یہ تھا کہ میرے ساتھ میرے بہنوئی اس دوران فون پر جو بات چیت ہوئی تھی اس نے یہی کہا تھا کہ " میرا اس کے ساتھ گزار انہیں میں اسے طلاق دیدونگا " اس کے علاوہ اس موقع پر میں نے طلاق کے متعلق کچھ نہیں سنا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 2018 کو میاں بیوی کے درمیان دو طلاقیں ہو چکی ہیں اور اس کے بعد دونوں میاں بیوی کی طرح رہتے رہے (یعنی رجوع بھی ہوا ہے) مندرجہ بالا تفصیل کے مطابق آپ حضرات سے یہ معلوم کرنا ہے کہ ہمارے درمیان طلاق واقع ہوچکی ہے یا نہیں اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ شریعت کی رو سے جو اب عنایت فرما کر مشکور ہوں ۔
مفتی غیب نہیں جانتا ، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے ، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ صورت مسئولہ میں میاں بیوی کے در میان اس سے قبل 2018 میں دو طلاقیں واقع ہو چکی ہیں ، جس پر میاں بیوی کا اتفاق ہے، جبکہ حالیہ لڑائی جھگڑے میں شوہر کا بیوی کے بھائی کے ساتھ موبائل فون پر گفتگو کے متعلق بیوی کا بیان یہ ہے کہ شوہر نے اس دوران موبائل فون پر یہ الفاظ " میں آپ کی بہن کو طلاق دے رہا ہوں , اسے آکر لے جاؤ " کہتے ہوئے تیسری طلاق بھی دے دی ہے ، لیکن بیوی کے پاس اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لئے شرعی شہادت موجود نہیں ، جبکہ شوہر تیسری طلاق دینے سے انکاری ہے، اور میاں بیوی میں سے ہر ایک اپنے اپنے بیان پر حلف اٹھانے اور قبر و آخرت کی جواب دہی کے لئے تیار ہیں ، جب ایسی صورت در پیش ہو جائے کہ بیوی تیسری طلاق کی دعویدار ہو مگر اس کے پاس شرعی شہادت موجود نہ ہو اور شوہر طلاق دینے سے انکاری ہو تو ایسی صورت میں " المرأة كالقاضی" کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے بیوی پر لازم ہے کہ اپنے آپ کو مطلقۂ ثلاثہ سمجھے اور شوہر کو اپنے اوپر قطعاً قدرت نہ دے ، تاہم یہ معاملہ اگر قاضی (جج) کی عدالت میں چلا جائے۔ اور قاضی تیسری طلاق کے گواہ نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دے کر بیوی کو اس کے ساتھ روانہ کر دے ، تو ایسی صورت میں بیوی اگرچہ گنہگار نہ ہوگی، مگر پھر بھی اسے چاہیئے کہ حتی الامکان شوہر کو اپنے اوپر قدرت نہ دے ، بلکہ طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ اپنے شوہر سے خلاصی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے ۔
كما في البحر الرائق: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه (إلى قوله) أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه الخ ( باب الطلاق الصريح الخ، ج ۳، ۲۵۷،ط: ماجدية )-
و في فتاوى الهندية : و المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندنا الخ ( الباب الثاني في إيقاع الطلاق ، ج ١ ، ص ۳۵4، ط: ماجدية )-
و في رد المحتار : تحت (قوله كا لقضاء باليمين الكاذبة) قالو ا لو ادعت أن زوجها أبانها بثلاث فأنكر فحلفه القاضي فحلف والمرأة تعلم أن الأمر كما قالت لا يسعها المقام منه ولا أن تأخذ من ميراثه شيئا (إلى قوله ) و في الخلاصة : ولا يحل وطؤها إجماعاً بحر الخ (مطلب في القضاء بشهادة الزور، ج ۵، ص 405، : سعید)-
و في فتاوى قاضي خان : وهم أصناف ، صنف لا يكون كلامهم شهادة لعدم الأهلية وأهلية الشهادة إنما تكون بالعقل الكامل والضبط والولاية والقدرة على التمييز بين المدعي والمدعى عليه فلا تقبل شهادة الصبيان والمجانين (إلى قوله ) فلا ينعقد النكاح بحضرتهم وكذلك شهادة النساء وحدهن الخ (كتاب الشهادة ، باب فيمن لا تجوز شهادتهم ، ج ۵، ص421، ط : رشيدية)-