السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب! میری دادی اماں کے پاس ذاتی پیسہ تھا، بیماری کی وجہ سے نمازیں قضاء ہوئیں اور اب انتقال ہو گیا ہے، اب قضاء نمازوں کا غالب گمان کے مطابق اندازہ لگایا اور اب جو رقم بنتی ہے اس کی تقسیم کے بارے میں دریافت کرنا تھا، دادی اماں کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے، ایک بیٹا صاحبِ استطاعت ہے اور دوسرا بیٹا بے روزگار اور غریب ہے، بیٹی جو کہ غیر شادی شدہ ہے تو سرکاری قانون کے مطابق دادی کی ماہانا پینشن اب بیٹی کو ملے گی، جس میں مشکل سے گزارہ ہوگا، اب نمازوں کے فدیہ کے پیسے جو بنتے ہیں اور غریبوں میں تقسیم کرنے ہیں، کیا اس میں سے بے روزگار اور غریب بیٹا اور بیٹی پیسے لے سکتے ہیں؟ ایک نماز کا فدیہ کیا ہے، اسکی وضاحت بھی فرمائیں۔
قضا نمازوں کے پیسوں کے ادا کرنے کے بعد ایک لاکھ روپے بچ گئے ہیں، دو بیٹے اور ایک بیٹی میں کیسے تقسیم کریں گے؟ قضاء نمازوں کی فدیہ کی رقم کون ادا کرتا ہے اور یہ ادائیگی کس رقم سے ہو گی؟
جوابِ تنقیح: ، دادی مرحومہ نے نمازوں کے فدیہ کی ادائیگی کی کوئی وصیت نہیں کی ہے، لیکن تمام ورثاء فدیہ کی ادائیگی پر رضامند ہیں، فدیہ کی ادائیگی دادی مرحومہ کے ترکہ کی رقم سے ادا کی جائیگی۔
واضح ہو کہ سائل کی دادی مرحومہ نے اگر فدیہ دینے کی وصیت نہ کی ہو، تو اس کی بیماری کی وجہ سے چھوٹی ہوئی نمازوں کا فدیہ دینا ورثاء پر لازم نہیں ، تاہم اگر تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں اور تمام اپنی رضامندی وخوشی سے ترکہ کی رقم سے مرحومہ کے نمازوں کا فدیہ دینا چاہتے ہوں ، تو شرعاً اس کی بھی گنجائش ہے ، تاہم ایسی صورت میں بھی چونکہ فدیہ مرحومہ کی نمازوں کا ادا کیا جارہا ہے ، اس لئے اس کی مستحق اولاد کو بھی یہ فدیہ کی رقم دینا درست نہ ہوگابلکہ زکوۃ کے کسی مصرف میں ادا کرنا لازم ہوگا جبکہ ایک نماز کےفدیہ کی مقدار دو کلو گندم یا اس کی مقامی قیمت کے برابر ہوگی اور ایک دن میں پانچ فرض نمازوں کے علاوہ وتر کا مستقل فدیہ ادا کرنا لازم ہوگا، اس حساب سے یومیہ چھ نمازوں کے حساب سےفدیہ کی ادائیگی لازم ہوگی۔
اس کے بعد واضح ہو کہ دادی مرحومہ کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال مذکور رقم سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی ( 1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل پانچ (5) حصے بنائے جائیں ،جن میں سے بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو دو (2) حصے اور بیٹی کو ایک حصہ دیا جائے -
کما فی الدر المختار: (ولو مات وعلیہ صلوات فائتۃ وأوصی بالکفارۃ یعطی لکل صلاۃ نصف صاع من بر) کالفطرۃ (وکذا حکم الوتر) والصوم، وإنما یعطی (من ثلث مالہ) ولو لم یترک مالا یستقرض وارثہ نصف صاع مثلا ویدفعہ لفقیر الخ
وفی رد المحتار: تحت(قولہ وإنما یعطی من ثلث مالہ) أی فلو زادت الوصية على الثلث لا يلزم الولي إخراج الزائد إلا بإجازة الورثة. وفي القنية: أوصى بثلث ماله إلى صلوات عمره وعليه دين الخ (کتاب الصلاۃ باب قضاء الفوائت ج 2 صـ 73-72 ط: سعید)وفی الھندیۃ: ولا یدفع إلی أصلہ وإن علا وفرعہ وإن سفل کذا فی الکافی اھ (کتاب الزکاۃ الباب السابع ج 1 صـ 188 ط: ماجدیۃ)