السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ! میں اپنے مرحوم والد کے روزوں کا فدیہ ادا کرنا چاہتا ہوں ،مجھے سن 2007 سے سن 2018 تک کے فدیہ کی رقم کا معلوم کرنا ہے کہ ہر سال فدیہ کی رقم کتنی تھی ،تاکہ میں وہ رقم ادا کردوں ، والسلام۔
سائل کے مرحوم والد نے اگر روزوں کے فدیہ کی وصیت کی ہو تو کفن دفن کے اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی کے بعد بقیہ مال کے ایک تہائی کی حد تک والد کی وصیت پوری کرنا ورثاء پر لازم ہے ،لیکن اگر والد نے وصیت نہ کی ہو یا مرحوم نے ترکہ نہ چھوڑا ہو تو ورثاء پر والد مرحوم کے روزوں کا فدیہ دینا شرعاً لازم نہیں ، تاہم اگر اس کے باوجود سائل ان روزوں کا فدیہ دینا چاہے تو آج کے حساب سے ہرروزے کے بدلہ ایک صدقہ فطر کے برابر رقم کسی مستحق زکوٰۃ شخص کو دیدیں اس طرح تمام سالوں کے روزوں کا فدیہ ادا کر لیا جائے۔
کما فی الدرالمختار:"(العبادة المالية) كزكاة وكفارة (تقبل النيابة) عن المكلف (مطلقاً) عند القدرة والعجز ولو النائب ذمياً؛ لأن العبرة لنية الموكل ولو عند دفع الوكيل (والبدنية) كصلاة وصوم (لا) تقبلها (مطلقاً، والمركبة منهما) كحج الفرض (تقبل النيابة عند العجز فقط)".
وفیہ ایضاً: "(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر(ج2ص72)۔
وفي الدرالمختار: (وفدى)لزوماً( عنه) أي من الميت ( ولیہ) الذي يتصرف في ماله(كالفطرة) قدر( بعد قدرته عليہ)(إلى قوله)( إن لم ) يوص(و تبرع ولیه به جاز) ان شاء الله و يكون الثواب للولی اختیار اھ(2/424)۔