السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ ! محترم و مکرم جناب مفتی صاحب دارالافتاء ! جناب عالی ! گزارش خدمت ہے ، درج ذیل مسئلہ میں ہمیں قرآن و حديث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔ میں محمد ریاض شاہ ولد عبدالسلام شاہ ساکنہ سید پورہ شوپیان کشمیر , میرا نکاح سال 2005 میں صفیہ زامن ساکنہ ملنگام سے ہوا تھا ، ہماری زندگی شریعت کے مطابق نہیں گزر رہی تھی ، ہمارے بیچ اختلافات اکثر رہتے تھے ، میں بس اس امید سے رہا کہ آج نہ ، تو کل ضرور ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے ، مگر ایسا نہ ہوسکا ، ہمارے اختلافات بڑھتے گئے ، آخر کار مجھے اپنی بیوی سے علیحدہ ہونا پڑا ، میں گھر چھوڑ کر اپنے والدین کے ساتھ رہنے لگا ، ایک ماہ کے بعد میری بیوی نے مجھ پر ایف آئی آر ہرپورہ شوپیاں تھانہ میں درج کروائی ، اس میں جو الزامات تھے ، وہ سب جھوٹے تھے اور میں مجبور ہوگیا اس کو طلاق دینے پر ، 13جولائی 2020کو میں نے ایک طلاق (احسن) تحریر کروائی اپنے وکیل سے ، لیکن اسی رات کو مجھے میرا وکیل فون کرتا ہے کہ جو طلاق نامہ بنایا ہے جس پر میں نے دستخط کیے تھے ، وہ دوبارہ بنانا پڑے گا، اس میں کچھ غلطی ہے ، 14جولائی 2020کو ایک اور طلاق نامہ تیار کیا جو میں نے اپنی بیوی کو بھیج دیا،7 جولائی 2021 کو میں نے ایک میسج اپنی بیوی کو بھیجا، جس کے الفاظ یوں تھے "اگر آپ نے مجھ پر کوئی اور کیس کیا ، میں خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ رکھتے ہوئے آپ کو دوسری طلاق رجعی دیتا ہوں" پر اس نے اس میسج کو نظر انداز کیا اور مجھ پر ایک اور کیس دائر کیا 02دسمبر 2021کومیں نے ایک طلاق نامہ تیار کیا، 01 جنوری 2022 ایک اور طلاق نامہ تیار کیا، 15 فروری 2022 کو ایک اور طلاق نامہ بنایا گیا ، ان سب پر میں نے دستخط کیے اور بھیج دیے ، جتنی بھی تحریری طور پر طلاقیں دیں ،وہ طلاق نامہ میری بیوی نے واپس کر دیے، اس نے لینے سے انکار کر دیا، 14 جولائی 2020 کو جو طلاق دی اور 2 دسمبر 2021 کو جو طلاق دی ، ان دونوں طلاقوں میں گواہوں نے گواہی دینے سے انکار کر دیا ، اس لئے مجھے دو طلاقیں پھر سے تحریر کروانی پڑیں ، ان میں قانونی طور کی وجہ سے مجھے یہ طلاقیں دوبارہ تحریر کروانی پڑی تھیں ، ورنہ میرا کوئی ارادہ نہیں تھا دوبارہ تحریر کروانے کا، 15 فروری 2022 کو جو تیسری طلاق دی ، اس میں میری نیت نہیں تھی تیسری طلاق دینے کی ، مگر وکیل کے کہنے پر دینی پڑی ، اب میری گزارش ہے جناب والا سے کہ کیا اگر دوبارہ نکاح کرنا پڑے، اس میں حلالہ کرنا پڑے گا ؟ کیا تینوں طلاقیں ہو چکی ہیں یا ابھی گنجائش ہے ؟ براہِ مہربانی شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔جزاک اللہ خیراً
نوٹ : بذریعہ فون معلوم ہوا کہ پہلاطلاق نامہ 14 جولائی2020 کو بنوانے کے بعد سے لے کر ابھی2024 تک رجوع نہیں کیا ۔
سائل نے 13 جولائی کو ایک طلاق پر مشتمل طلاق نامہ بنواکر اس پر دستخط کر دیے تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی ، اور غلطی کی تصحیح کی خاطر دوسرا طلاق نامہ بنوا کر اس پر بھی دستخط کر دیے تو اس سے دوسری طلاق بھی واقع ہو چکی تھی اور سائل کو دوران عدت رجوع کا حق حاصل تھا، لیکن اگر سائل کی مطلقہ بیوی کی عدت مکمل ہو چکی تھی اور سائل نے دوران عد ت ر جوع بھی نہیں کیا ہو، تو عدت مکمل ہونے پر دونوں کا نکاح ختم ہو چکا تھا ، لہذا اس کے بعد جو طلاقیں دی گئی ہیں ، وہ سب لغو ہو چکی ہیں ، اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔ تاہم اگر دونوں باہمی رضا مندی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کےتقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کر کے تجدید نکاح کے بعد ساتھ رہ سکتے ہیں، البتہ اس صورت میں سائل کو آئندہ کےلئے فقط ایک طلاق کا اختیار ہو گا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں مکمل احتیاط کی جائے۔
كما في الهداية : " الطلاق على ضربين : صريح و كناية . فالصريح قوله أنت طالق و مطلقة و طلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي " (باب إيقاع الطلاق، ج 2، ص 61 ، ط : مكتبة إنعامية)-
و في الفتاوى الهندية : (وأما حكمه) فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن كذا في فتح القدير. ( الباب الأول في تفسير الطلاق وركنه وشرطه وحكمه ووصفه وتقسيمه، ج 2، ص 191، ط : رشيدية)-
و فيها أيضا : وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو الخ ( الفصل السادس في الطلاق بالكتابة، ج 2، ص 255، ط : رشيدية)-