کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بہن کو تقریباً دوسال آٹھ مہینے پہلے شوہر نے ایک طلاق دی تھی، تین طلاقیں نہیں دی ہیں، تو براہِ کرام شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ شرعاً طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟
نوٹ: مذکور ایک طلاق کے بعد شوہر نے اب تک رجوع نہیں کیا۔
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ سائل کے بہنوئی نے ان کی بہن کو طلاق دیتے وقت کون سے الفاظ استعمال کئے ہیں،تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا،تاہم اگر سائل کے بہنوئی نے اپنی بیوی کو "میں تمہیں طلاق دیتاہوں" جیسے واضح اور صریح الفاظ کے ساتھ فقط ایک طلاق دی ہو،تین طلاقیں نہ دی ہوں،تو اس سے سائل کی بہن پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی تھی، جس کے بعد اسے دورانِ عدت رجوع کرنے کا اختیار حاصل تھا، چنانچہ دورانِ عدت اگر انہوں نے رجوع نہ کیا ہو تو رجوع نہ کر نے کی وجہ سے یہ طلاق ، طلاق بائن ہوکر میاں بیوی کا نکاح ختم ہو چکا ہے، اب سائل کی بہن کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے، تاہم اگر میاں بیوی ایک ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتے ہوں، تو نئے حق مہر کے تقرر کےساتھ باقاعدہ گواہان کی موجودگی میں باضابطہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدیدِ نکاح کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں۔
كما في الهداية: الطلاق على ضربين : صريح وكنایة فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة (إلى قولہ) فهذا يقع به الطلاق الرجعي الخ ( باب ایقاع الطلاق،ج2، ص 61، ط؛انعامیۃ)۔
وفي الهندية : وأما حكمه فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن الخ ( كتاب الطلاق، ج ١ ص 348،ط: ماجدية)۔