السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! میرا سوال کنایہ الفاظ بولنے سے طلاق واقع ہونے سے متعلق ہے ، اگر شوہر کو بیوی پر کسی بات پر غصہ ہو اور وہ بیوی کو واٹس ایپ میسج پر بات چیت کے دوران غصے کی حالت میں "اللہ حافظ" کہے اور دل میں کوئی متعین نیت حاضر نہ ہو بلکہ محض غصہ کا اظہار مقصود ہو اور بیوی کو ناگواری کا احساس دلانا مقصود ہو، البتہ اللّٰہ حافظ کہنے کے دوران دل میں طلاق کا خیال وارد ہو گیا ہو (ممکن ہے کہ یہ شیطان کی طرف سے وسوسہ ہو کیونکہ شوہر کو ایسے خیالات پہلے بھی وارد ہو جاتے ہیں)، تو کیا اس طرح اللّٰہ حافظ کہنے سے طلاق تو واقع نہیں ہوتی؟ براہ مہربانی تفصیل سے رہنمائی فرما دیجئے۔جزاکم اللہ خیرا
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مذکور الفاظ " اللہ حافظ" سے بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی بلکہ میاں بیوی کا نکاح قائم ہے اور دونوں حسب سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں ۔
کما فی رد المحتار: تحت (قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية الخ( ج 3 ص 230 ط: سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما بيان ركن الطلاق فركن الطلاق هو اللفظ الذي جعل دلالة على معنى الطلاق لغة وهو التخلية والإرسال ورفع القيد في الصريح وقطع الوصلة ونحوه في الكناية الخ( ج 3 ص 98 ط: سعید)۔