میرے بیٹے زید نے ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے 11 جنوری 2024 کو اپنی بیوی فاطمہ کو طلاق دیدی، 3 بار زبانی طلاق دی ، پھر اسٹامپ پیپر پر مجسٹریٹ سے طلاق نامہ بنوایا ، پھر نادرا سے طلاق نامہ کا سرٹیفکیٹ بھی بنوا لیا ، 21 جنوری کو چار (4) گواہان کے سامنے حق مہر بھی ادا کردیا اور اسی دن فاطمہ کے گھر والے جہیز کا سب سامان بھی لے گئے ، طلاق کے 25 دن بعد فاطمہ نے دعویٰ کیا کہ میں حاملہ ہوں یعنی میں ماں بننے والی ہوں ، اسلئے یہ طلاق نہیں ہوئی ، طلاق کے وقت یا اس سے پہلے فاطمہ نے کوئی ایسی بات نہیں کی تھی ، براہ مہربانی آپ شرعی طریقے سے بتائیں کہ طلاق ہو گئی ہے یا نہیں ؟
نوٹ : طلاق کے الفاظ یہ تھے کہ " جاجا طلاق دی " یہ جملہ تین بار کہا۔
واضح ہو کہ حالت حمل میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے ، لہذا صورت مسؤلہ میں اگر شوہر نے اپنی حاملہ بیوی کو مذکور الفاظ" جاجا طلاق دی " کہہ دیئے تو اس سے بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا ، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، جبکہ عورت ایام عدت ( وضع حمل ) کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ۔
کما فی الدر المختار : ( و حل طلاقھن ) ای الآیسۃ و الصغیرۃ و الحامل (عقب وطء ) لان الکراھۃ فیمن تحیض لتوھم الحبل و ھو مفقود ھنا الخ (کتاب الطلاق ، ج 3 ، ص 232 ، ط : سعید ) ۔
وفیہ ایضاً : و ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحاً صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا کذا فی الھدایۃ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ الخ ، ج 1 ، ص 473 ، ط : ماجدیہ ) ۔