محترم شیخ !امید ہے کہ آپ یہ ای میل بخیر وعافیت وصول کر رہے ہیں ،میں ہمارے طلاق کے اعلان کے حوالے سے معاملے کو واضح کرنے کے لئے لکھ رہا ہوں ، پانچ جنوری کو میں نے آپ کو ایک ٹیکسٹ پیغام بھیجا جس میں کہا گیا تھا ، کہ میں آپ کو طلاق دیتا ہوں ، بیس (20) دن کے بعد پچیس (25) جنوری کو میں نے ایک صوتی پیغام اور ایک تحریری پیغام بھیج کر اپنے فیصلے کو دوبارہ دہرایا جس میں کہا گیا تھا کہ "میں آپ کوطلاق دیتا ہوں " میں اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہوں ، کہ ہم اپنی طلاق کے لئے صحیح طریقہ کار پر عمل کر رہے ہیں ؟ براہ کرم مجھے بتائیں کہ کیا ہمیں پانچ (5) جنوری کو کیے گئے اعلان کو سرکاری طور پر ماننا چاہئے، یا پچیس (25) کو اس کے بعد کا اعلان اس کی جگہ لے لیتا ہے ، آپ کی سمجھ اور تعاون کے لئے آپ کا شکریہ ۔
واضح ہو کہ جس طرح زبانی طور پر الفاظ طلاق کہنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے ،اسی طرح تحریری طور پر بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے پانچ (5) جنوری کو طلاق کا ایک ٹیکسٹ بھیجا اور اس کے بعد پچیس (25) جنوری کو ایک صوتی پیغام اور ایک تحریری پیغام کے ساتھ اپنی بیوی کو مذکور الفاظ " میں آپ کو طلاق دیتا ہوں " کےساتھ مزید دو طلاقیں دیدی ہوں ، تو اس کی بیوی پر مجموعی طور پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حُرمتِ مغلّظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا ،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ، اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما فی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛الخ (ج3 ص 187 فصل وأما حکم البائن ط سعید)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله طلقت بوصول الكتاب) أي إليها(الی قولہ) ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابةالخ (ج 3 ص 246 مطلب فی الطلاق بالکتابۃ ط سعید)۔