کیافرماتےہیں علمائےکرام مسئلہ ذیل کےبارےمیں کہ: میں نشہ،آئس،اورپوڈرکاعادی ہوں،دوتین دن سےنشہ نہیں کیاتھا،گھرمیں بیوی کیساتھ کچھ گھریلومسائل کی وجہ سےلڑائی جھگڑاہوا،اورمیں نےبیوی کومارابھی اورغصےمیں کیاکچھ کہامجھےکچھ یادنہیں ہے،اوراس لڑائی سےتقریباًآدھاگھنٹہ قبل میں نشہ کرچکاتھا۔
موقع پرموجودمیری بیوی کاکہناہےکہ میں نےصرف ایک مرتبہ طلاق کےالفاظ سنےہیں ،کیونکہ میں رورہی تھی ،مجھےپتہ ہی نہیں چلااورمیں نےصرف ایک ہی مرتبہ یہ جملہ سناکہ اس نےکہا"میں تمہیں طلاق دیدونگا'زہ بہ تالہ طلاق درکوم"،جبکہ میری بہن بھی موقع پرموجودتھی،اس کاکہناہےکہ میں نےتین مرتبہ طلاق کےالفاظ بولےہیں۔
دارالافتاءسے بہن سےفون پررابطہ کیاگیا،ان کاکہناہےکہ لڑائی جھگڑےکےدوران میرےبھائی نےایک مرتبہ طلاق کاجملہ بولا"زہ تالہ طلاق درکوم"میں تمہیں طلاق دیتاہوں'تومیں نےبھائی کےمنہ پرہاتھ رکھا،توبھائی نےزورسےمیراہاتھ ہٹایا،اورپھردومرتبہ کہا"زہ تالہ طلاق درکوم"زتالہ طلاق درکوم"میں تمہیں طلاق دیتاہوں،میں تمہیں طلاق دیتاہوں'اورمیں اپنی اس بات پرحلفیہ بیان دےرہی ہوں کہ میرےبھائی نےیہی الفاظ کہےہیں،اب اس صورت میں طلاق ہوئی یانہیں؟
واضح ہوکہ نشہ کی حالت میں بھی طلاق دینےسےشرعاًطلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذاصورت مسئولہ میں اگرسائل کی بہن کابیان درست اورمبنی برحقیقت ہواس طورپرکہ سائل نےتین مرتبہ"زہ تالہ طلاق درکوم"یعنی"میں تمہیں طلاق دیتاہوں"کےالفاظ کہےہوں،اورسائل اوراسکی بیوی اس بات کاانکارنہ کریں،توسائل کی بیوی پرتین طلاقیں واقع ہوکرحرمت مغلظہ ثابت ہوچکی،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اورحلالہ شرعیہ کےبغیرباہم عقدنکاح بھی نہیں ہوسکتا،لہذادونوں پرلازم ہےکہ فوراًایک دوسرےسےعلیحدگی اختیارکریں اورمیاں بیوی والاتعلق ہرگزقائم نہ کریں،ورنہ دونوں سخت گناہ گارہونگے،جبکہ عورت ایام عدت گزارنےکےبعداپنی مرضی سےدوسری جگہ نکاح کرنےمیں بھی آزادہے۔
کما فی ردالمحتار: تحت(قولہ: أوأفیون أوبنج)(الی قولہ)وفی ھذا الزمان اذاسکرمن البنج والأفیون یقع زجرا وعلیہ الفتویٰ الخ(ج3 صـ240 کتاب الطلاق ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: أما الطلقات الثلاث فحکمھاالأصلی ھو زوال الملک،وزوال حل المحلیۃ ایضا حتی لایجوز لہ نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر،لقولہ عزوجل: فان طلقھافلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاغیرہ،سواء طلقھا ثلاثامتفرقۃ أو جملۃ واحدۃ الخ (ج3 صـ187 کتاب الطلاق فصل واما حکم البائن ط: ایچ ایم سعید)۔