السلام علیکم
میرا سوال یہ ہےکہ میری بیوی سے واٹس ایپ میسج پر لڑائی کے دوران اس نے مجھ سے کہا 'اگر میں بری ہوں تو مجھے چھوڑ دو' تو میں نے اس سے کہا 'ہماری چھوٹی چھوٹی لڑائیوں کی وجہ سے مجھ سے طلاق کی طلب کیوں کر رہی ہو؟پھر اس نے کہا 'میں طلاق نہیں مانگ رہی،اگلے دن ہم دوبارہ لڑے اور وہ کہہ رہی تھی کہ 'تم نے کہا تھا طلاق، میں نے کہا کہ نہیں ( لفظ" کہا" سے میری بیوی کا مطلب تھا کہ میں اس پر طلاق مانگنے کا الزام لگا رہا ہوں،میری بیوی کی اردو کمزور ہے لیکن میں اپنی بیوی کا مطلب سمجھ گیا) تو میں نے اس سے کہا "کیونکہ چھوڑنے سے تمہارا مطلب طلاق تھا"،میرا ارادہ طلاق کا ہر گز نہیں تھا اور میں نے کبھی اپنی بیوی کے لئے طلاق کا لفظ نہیں بولا، یہ صرف الفاظ کی غلط فہمی تھی،لڑائی کے دوران، ہم دونوں جانتے تھے کہ ہم صرف اس بارے میں بات کر رہے ہیں کہ اس نے طلاق مانگی ہے یا نہیں، کیا طلاق واقع ہوئی ہے؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر سائل نے اپنی بیوی کےجملے "اگر میں بری ہوں تو مجھے چھوڑ دو" کے جواب میں سوالیہ انداز میں یہ جملہ "ہماری چھوٹی چھوٹی لڑائیوں الخ" دہرایا ہو ،اس کے علاوہ میں نے چھوڑ دیا یا الفاظِ طلاق پر مشتمل کوئی جملہ نہ دہرایا ہو، تو ان جملوں سے یا اگلے دن اس پر تبصرہ کرتے ہوئے دہرائے گئے جملوں سے اس کی بیوی پر شرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،اس لئے بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔
کما فی رد المحتار: تحت (قولہ وما بمعناھا من الصریح) ای مثل ما سیذکرہ من نحو: کونی طالقا واطلقی و یا مطلقۃ بالتشدید (إلی قولہ) وجزم الزیلعی بأنہ لا بد فیھما من النیۃ کما ذکرہ الخیر الرملی: أی فیکون کنایۃ لأن الصریح لا یحتاج إلی النیۃ، وأما مافی البحر (إلی قولہ) لأن دلالۃ الحال قائمۃ مقام النیۃ، حتی لو لم تکن قائمۃ لم یقع إلا بالنیۃ اھ (کتاب الطلاق باب الصریح ج 3 صـ 239-248 ظ؛ سعید)
وفی الھندیۃ: حکی یمین رجل فلما بلغ إلی ذکر الطلاق خطر ببالہ امرأتہ إن نوی عند ذکر الطلاق عدم الحکایۃ واستئناف الطلاق وکان موصولا بحیث یصلح للإیقاع علی امرأتہ یقع لأنہ أوقع و إن لم ینو شیئا لا یقع لأنہ محمول علی الحکایۃ الخ (کتاب الطلاق فصل فیمن یقع الطلاق الخ ج 1 صـ 353 ط:ماجدیۃ)
وفی فتح القدیر: کما سیذکر لا بد من القصد بالخطاب بلفظ الطلاق علمابمعناہ أو النسبۃ إلی الغائبۃ کما یفیدہ فروع ھو أنہ لو کرر مسائل الطلاق بحضرۃ زوجتہ ویقول أنت طالق ولا ینوی طلاقا لا تطلق و فی متعلم یکتب ناقلا من کتاب رجل قال ثم وقف وکتب امرأتی طالق وکلما کتب قرن الکتابۃ بالتلفظ بقصد الحکایۃ لا یقع علیہاالخ (کتاب الطلاق باب ایقاع الطلاق ج3 صـ 351ط:رشیدیۃ)