کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمٰی شکیل ولد محمد رفیق نے گھریلو لڑائی جھگڑے کے دوران اپنی بیوی سحر بنت محمد یونس کو تین مرتبہ طلاق دی ، طلاق کے الفاظ یہ تھے کہ " سحر تمہیں تین شرط طلاق ہے ، سحر تمہیں تین شرط طلاق ہے ، سحر تمہیں تین شرط طلاق ہے" اب معلوم یہ کرناہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ؟ اور آئندہ ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟
سائل نے جب اپنی بیوی کو مذکور الفاظ کہ " سحر تمہیں تین شرط طلاق ہے ،سحر تمہیں تین شرط طلاق ہے ، سحر تمہیں تین شرط طلاق ہے" کہہ دیے ، تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے،جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
قال اللہ تعالیٰ: الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ (الی قولہ تعالی) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (سورۃ البقرۃ آیۃ 228)۔
وفی الدرالختار: (وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل وعم التفريق،الخ ( ج3 ص 268 باب الطلاق غیر المدخول بھا ط سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة الخ ( ج3 ص 187 فصل وأما حکم البائنط سعید)۔