السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!اگر غیر مسلم جج سے بیوی طلاق کا مطالبہ کرے اور جج طلاق کا فیصلہ کرلے اور شوہر اس پر دستخط اور رضامندی کا اظہار کرے تو کیا شرعا بھی طلاق واقع ہوجائیگی؟ کورٹ کے کاغذات بھی میں آپ کو بھیج رہا ہوں ، یہاں پر کونسل میں علماء میں اختلاف ہے اس لیے آپکو زحمت دے رہا ہوں امید ہے کہ ہمیشہ کی طرح شفقت فرماتے ہوئے معاف فرمائینگے۔ بینوا توجروا ، والسلام ۔
سائل نے سوال میں اس بات کا تذکرہ نہیں کیا ہے کہ مذکور فیصلہ سے قبل شوہر نے مذکور غیر مسلم جج کو طلاق کا اختیار دیا تھا یا نہیں، تاہم شوہر نے اگر مذکور جج کو طلاق کا اختیار نہ دیا ہو تو جج کے اس فیصلہ کی وجہ سے اگرچہ زوجین کا نکاح شرعا ختم نہیں ہوا تھا لیکن جب شوہر نے بغیر کسی جبر واکراہ کے اپنی مرضی سے اس فیصلہ پر دستخط کردئیے تو اسکا یہ دستخط کرنا طلاق نامہ پر دستخط کرنے کے مترادف ہے اور اس تحریر میں طلاق کیلیے چونکہ divorced absolutely کا لفظ استعمال ہوا ہے ، جس کی وجہ سے اس میں مزید تشدید کا معنی پایا جاتا ہے ، اس لیے اسکی وجہ سے شرعا ایک طلاق بائن واقع ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے ۔
قال الله تعالي في القرآن الكريم: وَلَن يَجۡعَلَ ٱللَّهُ لِلۡكَٰفِرِينَ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ سَبِيلًا (النساء: 141)
في الفتاوى الولوالجية: ولو قال لأجنبي : طلقها إن شئت كان تمليكا حتى اقتصر على المجلس ولا يقبل الرجوع فيه اه (2/96)
في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وأما بيان من يصلح للقضاء فنقول: الصلاحية للقضاء لها شرائط (منها) : العقل، (ومنها) البلوغ، (ومنها) : الإسلام اه (3/7)
وفي معين الحكام فيما يترر بين الخصمين من الأحكام: وَهُوَ بِنَاءٌ عَلَى أَنَّ كُلَّ مَنْ صَلَحَ شَاهِدًا عِنْدَنَا يَصْلُحُ قَاضِيًا؛ لِأَنَّ الْقَضَاءَ يُبْتَنَى عَلَى الشَّهَادَةِ، مِنْ الْمُحِيطِ اه (ص:14)