السلام علیکم! مفتی صاحب ! ایک آدمی اپنی ماں سےبہت تنگ ہے ، ایک دن اس نے اپنی ماں سے کہا کہ مجھ پر اپنی بیوی طلاق ہے کہ آپ نے مجھے پاگل کردیا ، اس صورت میں طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ؟ اس بارے میں راہنمائی فرمائیں ۔ جزاک اللّٰہ خیراً!
صورت مسئولہ میں اگر شخص مذکور نے مذکور جملہ " مجھ پر اپنی بیوی طلاق ہے" کہا ہو تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی ہے ، چنانچہ مذکور شخص اگر دوران عدت رجوع کرلے تو نکاح حسب سابق برقرار رہے گا ، ورنہ عدت مکمل ہونے پر دونوں کا نکاح ختم ہو جائے گا ، اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
كما في الهداية : " الطلاق على ضربين : صريح و كناية . فالصريح قوله أنت طالق و مطلقة و طلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي " الخ(باب إيقاع الطلاق، ج 2، ص 61 ، ط : مكتبة إنعامية)-
و في فتاوى الهندية : (وأما حكمه) فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن كذا في فتح القدير الخ ( الباب الأول في تفسير الطلاق وركنه وشرطه وحكمه ووصفه وتقسيمه، ج 2، ص 191، ط : رشيدية)-