مفتی صاحب اگر مسجد میں جماعت ہورہی ہو، تو کیا جماعت ہوتے وقت مرد اس وقت گھر میں نماز پڑھ سکتا ہے ؟کیا اس کی نماز ادا ہوجائے گی ؟
واضح ہو کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنت مؤکدہ قریب بواجب ہے ، تاہم اگر کوئی شخص مسجد میں جماعت ہونے سے قبل یا دوران جماعت بلا عذر گھر میں نماز پڑھ لے ، تو ایسی صورت میں اگر چہ گھر میں پڑھی گئی نماز درست تو ادا ہوگی ، مگر اس میں مسجد اور جماعت کا ثواب نہیں ہوگا اور ایسی نماز ناقص رہے گی، احادیث مبارکہ میں بھی اس پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، چنانچہ ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ " رسول اللہﷺ نے فرمایا : میرا جی چاہتا ہے کہ نماز کی اقامت کا حکم دوں ، پھر ایک آدمی کو کہوں کہ لوگوں کو نماز پڑھائے ، اور خود ایسے لوگوں کی طرف جاؤں جو بلا عذر جماعت کی نماز میں حاضر نہیں ہوتے، اور میرے ساتھ کچھ لوگ ہوں ، جن کے پاس لکڑیوں کے گھٹے ہوں ، پھر میں ان کے گھروں کو آگ لگادوں ، لہذا مردوں کے لئے بلا عذر شرعی مسجد کی جماعت کو ترک کرنے سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی سنن ابی داؤد: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لقد هممت أن آمر بالصلاة، فتقام، ثم آمر رجلا فيصلي بالناس، ثم أنطلق معي برجال معهم حزم من حطب إلى قوم لا يشهدون الصلاة، فأحرق عليهم بيوتهم بالنار»( ج 1 ص 150 باب فی التشدید فی ترک الجماعت رقم 548 ط العصریۃ بیروت)۔
وفی الدر المختار: (والجماعة سنة مؤكدة للرجال) قال الزاهدي: أرادوا بالتأكيد الوجوب إلا في جمعة وعيد فشرط الخ ( ج1 ص 552 باب الامامۃ ط سعید )۔
وفی ردالمحتار: تحت(قوله قال الزاهدي إلخ) توفيق بين القول بالسنية والقول بالوجوب الآتي، وبيان أن المراد بهما واحد أخذا من استدلالهم بالأخبار الواردة بالوعيد الشديد بترك الجماعة. وفي النهر عن المفيد: الجماعة واجبة، وسنة لوجوبها بالسنة اهـ وهذا كجوابهم عن رواية سنية الوتر بأن وجوبها ثبت بالسنة قال في النهر: إلا أن هذا يقتضي الاتفاق على أن تركها مرة بلا عذر يوجب إثما مع أنه قول العراقيين. والخراسانيون على أنه يأثم إذا اعتاد الترك كما في القنية.الخ ( ج 1 ص 552 باب الامامۃ ط سعید )۔