امامت و جماعت

مسجد میں جماعت ہوتے وقت گھر میں نماز پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
70997
| تاریخ :
2024-02-17
عبادات / نماز / امامت و جماعت

مسجد میں جماعت ہوتے وقت گھر میں نماز پڑھنے کا حکم

مفتی صاحب اگر مسجد میں جماعت ہورہی ہو، تو کیا جماعت ہوتے وقت مرد اس وقت گھر میں نماز پڑھ سکتا ہے ؟کیا اس کی نماز ادا ہوجائے گی ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنت مؤکدہ قریب بواجب ہے ، تاہم اگر کوئی شخص مسجد میں جماعت ہونے سے قبل یا دوران جماعت بلا عذر گھر میں نماز پڑھ لے ، تو ایسی صورت میں اگر چہ گھر میں پڑھی گئی نماز درست تو ادا ہوگی ، مگر اس میں مسجد اور جماعت کا ثواب نہیں ہوگا اور ایسی نماز ناقص رہے گی، احادیث مبارکہ میں بھی اس پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، چنانچہ ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ " رسول اللہﷺ نے فرمایا : میرا جی چاہتا ہے کہ نماز کی اقامت کا حکم دوں ، پھر ایک آدمی کو کہوں کہ لوگوں کو نماز پڑھائے ، اور خود ایسے لوگوں کی طرف جاؤں جو بلا عذر جماعت کی نماز میں حاضر نہیں ہوتے، اور میرے ساتھ کچھ لوگ ہوں ، جن کے پاس لکڑیوں کے گھٹے ہوں ، پھر میں ان کے گھروں کو آگ لگادوں ، لہذا مردوں کے لئے بلا عذر شرعی مسجد کی جماعت کو ترک کرنے سے احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن ابی داؤد: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لقد هممت أن آمر بالصلاة، فتقام، ثم آمر رجلا فيصلي بالناس، ثم أنطلق معي برجال معهم حزم من حطب إلى قوم لا يشهدون الصلاة، فأحرق عليهم بيوتهم بالنار»( ج 1 ص 150 باب فی التشدید فی ترک الجماعت رقم 548 ط العصریۃ بیروت)۔
وفی الدر المختار: (والجماعة سنة مؤكدة للرجال) قال الزاهدي: أرادوا بالتأكيد الوجوب إلا في جمعة وعيد فشرط الخ ( ج1 ص 552 باب الامامۃ ط سعید )۔
وفی ردالمحتار: تحت(قوله قال الزاهدي إلخ) توفيق بين القول بالسنية والقول بالوجوب الآتي، وبيان أن المراد بهما واحد أخذا من استدلالهم بالأخبار الواردة بالوعيد الشديد بترك الجماعة. وفي النهر عن المفيد: الجماعة واجبة، وسنة لوجوبها بالسنة اهـ وهذا كجوابهم عن رواية سنية الوتر بأن وجوبها ثبت بالسنة قال في النهر: إلا أن هذا يقتضي الاتفاق على أن تركها مرة بلا عذر يوجب إثما مع أنه قول العراقيين. والخراسانيون على أنه يأثم إذا اعتاد الترك كما في القنية.الخ ( ج 1 ص 552 باب الامامۃ ط سعید )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حمزہ منان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70997کی تصدیق کریں
0     2673
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات