کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمی گوہر امان ولد عمران نے اپنی بیوی مسماۃ سکینہ بی بی بنت محمد داور کے مطالبۂ طلاق پر ایک تحریری طلاق دی ہے ، جس کی کاپی منسلک ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ اس سے طلاق ہوتی ہے کہ نہیں؟ اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟ جبکہ اس تحریری طلاق کے بعد بھی ہم دس پندرہ دن ایک ساتھ رہے ہیں ، اور ہمارے درمیان ہمبستری بھی ہوئی ہے ، اب ہم ساتھ رہنا چاہتے ہیں، تو ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟
سوال کے ساتھ منسلکہ طلاق نامہ میں طلاق کے درج الفاظ " مسماۃ مذکور کو اس کے مطالبۂ پر طلاق دیتا ہوں اور اپنی زوجیت سے علیحدہ کرتاہوں" میں چونکہ طلاق کے دو علیحدہ علیحدہ جملے درج ہیں اور ان میں سے ہر ایک طلاق کے باب میں مستقل جملہ شمار ہوتا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں طلاق کے واضح الفاظ کے بعد کنائی الفاظ "اور اپنی زوجیت سے علیحدہ کرتاہوں" تحریر کرنے سے یہ دو طلاقیں، طلاق بائن بن کر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکا تھا، جس کے بعد سائل اور اس کی بیوی کا تجدید ِنکاح کیے بغیر میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا جائز نہیں تھا، جتنا عرصہ وہ ساتھ رہے ہیں، گناہ میں مبتلا رہے ہیں، جس پر ان دونوں پر بصدقِ دل توبہ و استغفار لازم ہے، تاہم اگر اب دونوں ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتے ہوں، تو باضابطہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے ساتھ باہمی رضامندی سےتجدیدِ نکاح کرکے ساتھ زندگی بسر کرسکتے ہیں، تاہم سائل کے پاس آئندہ کیلئے فقط ایک طلاق کا اختیار باقی رہیگا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط کی ضرورت ہے۔
کما فی رد المحتار: تحت (قوله طلقت بوصول الكتاب ) أي اليها ( إلى قوله) ولو استكتب من آخر كتاباً بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه و عنونه وبعث به إليها فاتاها وقع الخ ( ج ٣ ص 246 ط: سعید)۔
وفی الدرالمختار:الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح الخ (ج 3، ص306، ط:سعید)۔
وفی الہندیۃ: لو قال لها: لا نكاح بيني و بينك، أو قال: لم يبق بيني و بينك نكاح، يقع الطلاق إذا نوى الخ (کتاب الطلاق،ج 1، ص، 375 ط: ماجدیہ)۔
وفي الدرالمختار: وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع ومنع غيره فيها لاشتباه النسب الخ ( باب الرجعة ، ج 3 ، ص 409 ، ط" سعيد )۔
وفی الہدایۃ: وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها لأن حل المحلية باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبله ومنع الغير في العدة لاشتباه النسب ولا اشتباه في إطلاقه الخ ( فصل فيما تحل به المطلقة، ج 2، ص 92، ط؛ انعامیۃ)۔