میرا سوال ہے آج سے ایک سال پہلے میں نے کورٹ میرج کی تھی جس کے لئے ایک وکیل صاحب کی خدمت لی، وکیل صاحب نے نکاح خواں کو بلایا، گاڑی میں ہی نکاح ہوا، وہاں دولہا دلہن اور نکاح خواں کے علاوہ کوئی نہیں تھااور نکاح فارم پر پہلے سے ہی گواہان کے دستخط ہوئے تھے، اب آج سے کچھ دن پہلے میری اور میری بیوی کی کافی لڑائی ہوئی جس کے بعد میں کافی غصّے میں تھا اور اسی غصّے میں میں نے اسے چماٹ مارا چہرے پر اور کافی لوگوں کے سامنے تین بار طلاق دے دی، وہاں اُن لوگوں کے سامنے ہی ا س نے پہلے مجھے نیچا دکھایا تھا جس پر میں حواس باختہ ہوا اور طلاق دی، اب جو میری بیوی تھی، وہ نہیں مانتی کہ یہ طلاق ہوئی ہے ،جب کافی بار میں نے سمجھایا تو کہتی ہے ہمارا نکاح ہی نہیں ہوا تھا جو ختم ہو ،براہِ مہربانی مجھے اس پر مفتیانِ کرام سے فتویٰ چائیے شکریہ!
واضح ہوکہ نکاح کی صحت کے لئے دو عاقل ،بالغ ، مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عاقلہ بالغہ عورتوں کا مجلسِ نکاح میں بطورِ گواہ کے موجود ہونا ضروری ہے، وگرنہ یہ نکاح فاسد ہوگا، جس کو فسخ کرنا، یا شوہر کا الفاظِ متارکت مثلاً میں نے چھوڑ دیا وغیرہ کہنا ضروری ہوتا ہے، لہذا صورتِ مسؤلہ میں بغیر گواہوں کے کیا گیا نکاح ، نکاح فاسد تھا، جس کو فسخ کرنا لازم تھا، اب جب سائل نے طلاق دیدی ہے تو اس سے متارکت ہوچکی ہے، البتہ دونوں جتنا عرصہ اس نکاح کی وجہ سے ساتھ رہے ہیں سخت گناہ گار ہوئے ہیں، دونوں پر بصدقِ دل توبہ و استغفار لازم ہے، البتہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
کما فی الدر المختار: (ويجب مهر المثل في نكاح فاسد) وهو الذي فقد شرطا من شرائط الصحة كشهود (الی قولہ) (لكل واحد منهما فسخه ولو بغير محضر عن صاحبه دخل بها أو لا) في الأصح خروجا عن المعصية. فلا ينافي وجوبه بل يجب على القاضي التفريق بينهما (وتجب العدة بعد الوطء) لا الخلوة للطلاق لا للموت (من وقت التفريق) أو متاركة الزوج وإن لم تعلم المرأة بالمتاركة في الأصح الخ (مطلب فی النکاح الفاسد، ج 3، ص 131، ط: سعید)۔
و فی رد المحتار تحت: (قوله أو متاركة الزوج) في البزازية: المتاركة في الفاسد بعد الدخول لا تكون إلا بالقول كخليت سبيلك أو تركتك ومجرد إنكار النكاح لا يكون متاركة. أما لو أنكر وقال أيضا اذهبي وتزوجي كان متاركة والطلاق فيه متاركة لكن لا ينقص به عدد الطلاق الخ (مطلب فی النکاح الفاسد، ج 3، ص 133، ط: سعید)۔
و فی الھدایۃ: ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين الخ (کتاب النکاح، ج 2، ص 5)۔