کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں مسماۃ عائشہ خاتون ولدیت مولانا محمد یونس میری شادی مسعود احمد ولد مقبول احمد مظاہری سے سن 1995 ء میں ہوئی ، گھریلو ناچاکی کی بنا پر میرے شوہر مسعود احمد نے مجھے واضح الفاظ میں سن 2012 ء میں ایک طلاق دی ، پھر ہماری صلح ہوئی اور انہوں نے مجھ سے رجوع کر لیا ، اس کے بعد سن 2014ء میں نا اتفاقی کی وجہ سے دوسری طلاق دی اور رجوع نہیں کیا اور میں نے عدت بھی پوری کرلی، اور میں نے کوئی دوسری شادی بھی نہیں کی، اب میرے شوہر نے مجھ سے نکاح کیا اور آدھا تولہ سونا میرا مہر مؤجل مقرر کیا ، پھر ہمارے لڑائی جھگڑے کی بنا پر انہوں نے 18/02/2024 میں ایک طلاق دی ، میری مفتیانِ کرام سے درخواست ہے کہ شریعت کی روشنی میں مذکورہ بالا مسئلے پر واضح اور مدلل جواب عنایت فرما کر مشکور فرمائیں ،
(1) کیا میرا ان کے ساتھ نکاح برقرار ہے یا نہیں ؟
(2) نکاح ختم ہونے کی صورت میں عدت کے اخراجات کی رقم موجودہ دور میں کتنی ہے ؟
(3) دو طلاق کے بعد نکاح کرنے کی وجہ سے میرے شوہر کے پاس کتنی طلاق کی اختیار رہی ایک یا تین ؟
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا ہو اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے وقتاً فوقتاً تین طلاقیں دیدی ہوں تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے اور دونوں کا نکاح ختم ہو چکا ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا ، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ سائلہ ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ، سائلہ کے شوہر کے پاس تجدید نکاح کے بعد فقط ایک طلاق کا اختیار باقی تھا ، جو اب تیسری طلاق کے بعد ختم ہو چکا ہے ، جبکہ دوران عدت کا خرچہ شوہر پر بقدر استطاعت لازم ہے، چنانچہ طلاق سے قبل جتنا ماہانہ خرچہ دیتاتھا تو دوران عدت بھی اتنا ہی نفقہ دینا لازم ہوگا ۔
کما قال الله تعالى : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الخ ( سورة البقرة ، الأية : 230)
و في صحيح البخاري : عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة ؟ لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك الخ ( باب شهادة المختبي ، ج 2 ، ص 1243 ، رقم : 2639 ، ط : البشرى ) –
و في بدائع الصنائع : و أما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك ، و زوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر ؛ لقوله عز وجل فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة الخ ( فصل وأما حكم البائن ، ج 3 ، 187 ، ط : سعيد ) –
و في الد المختار : ( و الزوج الثاني يهدم بالدخول ) فلو لم يدخل لم يهدم اتفاقا الخ ( باب الرجعة، ج 3، ص 418، ط : سعيد)-
و في رد المحتار تحت ( قوله وهي مسألة الهدم الآتية ) أي في آخر باب الرجعة، وهي أن الزوج الثاني يهدم ما دون الثلاث كما يهدم الثلاث، فمن طلق امرأته واحدة أو أكثر ثم عادت إليه بعد زوج آخر عادت إليه بملك جديد فيملك عليها ثلاث طلقات الخ ( مطلب في مسألة الهدم، ج 3، ص 337، ط : سعيد)-
و فيه أيضا : تحت (قوله وتجب لمطلقة الرجعي والبائن) كان عليه إبدال المطلقة بالمعتدة؛ لأن النفقة تابعة للعدة، ( إلى قوله ) وفي المجتبى: نفقة العدة كنفقة النكاح الخ ( مطلب في نفقة المطلقة، ج 3، ص 609، ط : سعيد)-