ہم حال ہی میں نیوزی لینڈ پہنچے ہیں، میری اہلیہ مقامی این جی اوز سے منسلک ہوگئیں اور 14 جنوری 2023 کو صبح کے وقت ہمارے درمیان چھوٹا سا جھگڑا ہوا، جو حل ہوگیا، حالانکہ وہ کسی سے مسلسل رابطے میں تھی اور رات گئے اس نے پولیس کو فون کیا، پولیس نے طریقہ کار کے مطابق دونوں فریقین کو 48 گھنٹے کی مدت کے لئے الگ ہونے کو کہا، 48 گھنٹے بعد جب میں واپس آیا تو گھر میں بیوی بچے موجود نہیں تھے، تفتیش کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ کسی این جی او کے ساتھ رہ رہے ہیں، اب ایک ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد، این جی او کے پاس اپنے قیام کا جواز پیش کرنے اور اپنے قیام کو بڑھانے کے لئے ، اس نے مجھ پر کچھ غیر حقیقی الزامات لگائے، ایک یہ کہ میں نے اسے طلاق دی ہے جو کہ جھوٹی ہے، لہٰذا ایسے حالات میں، میں اپنی قسم کی بنیاد پر فتویٰ لینے کی کوشش کر رہا ہوں کہ میں نے اسے طلاق نہیں دی ہے اور وہ میرے نکاح میں ہے۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں، کیونکہ وہ کسی مفتی کے سامنے آنے کے لئے تیار نہیں ہے، تو براہِ مہربانی شوہر کی قسم پر فتویٰ صادر فرمائیں۔
مجھ سے واٹس ایپ پر 03343011753 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی ذمہ داری سائل پر عائد ہوتی ہے، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ اگر سائل نے واقعۃً اپنی بیوی کو کوئی طلاق نہ دی ہو اور بیوی طلاق کا جھوٹا دعوٰی کر کے کسی اجنبی کے ساتھ رہ رہی ہو تو اس کا یہ عمل شرعاً ناجائز و حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہورہی ہے، اس پر لازم ہے کہ جلد از جلد اپنے شوہر کے گھر لوٹ جائے اور اپنے اس گناہ پر بارگاہِ خداوندی میں بصدقِ دل توبہ و استغفار کرنے کے ساتھ ساتھ آئندہ کے لئے دوبارہ اس قسم کے ناجائز تعلقات قائم کرنے سے اجتناب کرے اور شوہر سے بھی معافی مانگے، چنانچہ اگر اس کو اپنے گناہ کا احساس ہوجائے اور گھر لوٹ کر سائل سے بھی معافی مانگ لے اور سائل کو بھی اس کی توبہ پر اعتماد ہو تو ایسی صورت میں سائل کو وسعتِ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو معاف کردینا چاہیئے ، لیکن اگر ہر ممکن کوشش کے باوجود وہ اپنی ضد پر مُصِر ہو تو ایسی صورت میں سائل اس کو ایک طلاق دے کر اپنی زوجیت سے الگ بھی کرسکتا ہے اور اس صورت میں سائل گناہ گار بھی نہ ہوگا۔
کما فی الھندیۃ: وإن اختلفا في وجود الشرط فالقول له إلا إذا برهنت الخ ( کتاب الطلاق ج 1 ص 422 ط: ماجدیہ )۔
وفیہ ایضاً: وكذلك إن سمعت أنه طلقها ثلاثا وجحد الزوج ذلك وحلف فردها عليه القاضي لم يسعها المقام معه، وينبغي لها أن تفتدي بمالها أو تهرب منه الخ ( ج 5 ص 313 ط: ماجدیہ)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما حجة المدعي والمدعى عليه فالبينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه لقوله - عليه الصلاة والسلام - «البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه» جعل - عليه الصلاة والسلام - البينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه والمعقول كذلك لأن المدعي يدعي أمرا خفيا فيحتاج إلى إظهاره وللبينة قوة الإظهار لأنها كلام من ليس بخصم فجعلت حجة المدعي واليمين الخ ( فصل ج 6 ص 225 ط: سعید )۔