السلام علیکم محترم جناب مفتی صاحب !
مجھے آپ سے اپنی جائیداد کے سلسلے میں فتویٰ درکار ہے،میری کوئی اولاد نہیں ہے ،لیکن میرے شوہر کی پہلی بیوی سے ماشااللہ 7اولادیں (6بیٹے اور ایک بیٹی)ہیں، میرے شوہر کا ایک بیٹا اور اسکی بیوی ہمارے ساتھ رہتے ہیں، معلوم یہ کرنا چاہتی ہوں کہ اگر میں اپنی جائیداد (ایک فلیٹ)جوکہ میرے نام ہے اپنی مرضی سے اپنے شوہر کے اس بیٹے کے نام کرسکتی ہوں جومیرے ساتھ رہتے ہیں یا تمام بچوں کا اس پر حق ہوگا، نیز یہ کہ کیا انکا میری جائیداد پر کوئی شرعی حق ہے؟میرا ایک فلیٹ ہے جس میں,میں اپنے شوہر کے بیٹے کے ساتھ رہتی ہوں، نیز یہ کہ میرے شوہر کا بھی ایک مکان ہے کیا اس میں بھی انکے اس بیٹے کا حق ہوگاجوکہ دوسرے بچوں کی طرح انکی پہلی زوجہ سے ہیں , براہ مہربانی اس مسئلے میں میری رہنمائی فرمائیں، اور مجھے شریعت کی رو سے فتویٰ جاری فرمائیں، شکریہ !
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاء ہونے سے قبل اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے ، لہذا صورتِ مسؤلہ میں سائلہ بھی اپنی تمام ذاتی جائیداد کی مالک ہے، شوہر کو یا اس کی اولاد کو سائلہ سے جائیداد میں حصہ داری یا تقسیم کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں ، البتہ اگر سائلہ اپنی جائیداد اپنے سوتیلے بیٹے کو دینا چاہتی ہو تو اسے مکمل اختیار ہے ، چنانچہ مذکور جائیداد میں سے اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہے ، اتنا رکھ کر بقیہ جائیداد اس بیٹے کو باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ دیدے، تاکہ یہ گفٹ شرعاً بھی تام اور درست ہوسکے ، صرف نام کردینے سے سوتیلا بیٹا مالک نہیں بنے گا ۔
کما فی الدر المختار: (و تتم) الھبۃ بالقبض الکامل (و لو الموھوب شاغلاً لملک الواھب لا مشغولاً بہ) (کتاب الھبۃ ، ج 5 ، ص 690 ، ط : سعید) ۔