گذارش ہے کہ محمد ریاض ولد محمد جمیل ساکن شہر علی واہن، تعلقہ روہڑی ضلع سکھر کا رہائش پذیر ہوں اور ٹائر پنکچر کام کرتا ہوں، مؤرخہ 6,7/11/2023 کو میں نے غلط فہمی اور غصہ کی حالت میں اپنی زوجہ عروسہ دختر محمد علی کو طلاق دی تھی، میری سابقہ زوجہ عروسہ حاملہ تھی، اور اب میں سابقہ زوجہ سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتاہوں، گذارش ہے کہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں، جزاک اللہ خیراً۔
نوٹ: طلاق کے الفاظ یہ تھے "طلاق ، طلاق، طلاق۔
سائل اور اسکی بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑے اور غصہ کی حالت میں سائل نے اپنی بیوی کو مذکور الفاظ" طلاق، طلاق، طلاق " کہہ دیے ہوں تو اس سے سائل کی بیوی مسماۃ عروسہ دختر محمد علی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایامِ عدت گزرنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی مسلمان سے اپنا عقدِ نکاح کرے، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے بعد فوراً یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے ، تو بہرِ صورت اس کی عدت گزرنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا، تاکہ زوجِ اول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہوجائے مکروہِ تحریمی ہے اور احادیثَِ مبارکہ میں اس پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، لہذا س سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
کما في الصحيح للبخاري : عن عائشة رضى الله عنها جائت امرأة رفاعة القرظى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقنى فأبت، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير فإنما معه مثل هدبة الثوب، فقال أتريدين أن ترجعی إلى رفاعة ؟ لا، حتى تذوقى عسيلته ويذوق عسيلتك اھ (ج ٢ ص ١٢٤٣ ، باب شهادۃ المختبی، ط: البشرى)۔
وفي الهندية : إذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط ان كانت مدخولة طلقت ثلاثا وان كانت غير مد خولة طلقت واحدة الخ (ج1،ص 355، ط:ماجدیۃ)۔
وفي الهداية : وإن كان الطلاق ثلاثا فى الحرة ،أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحاً صحيحاً ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها الخ (ج۲ ص ۹۲ ط: انعامية)۔
وفی رد المحتار: ویقع طلاق من غضب خلافاً لابن القیوم اھ وھذا الموافق عندنا لما مر فی المدھوش الخ (ج3، ص244، ط:سعید)۔