عرض یہ کہ میری بیگم چار ماہ کی حاملہ ہے ، ہماری آپس میں تلخ کلامی ہوئی ہے اور بات طلاق تک پہنچ گئی ہے، ابھی طلاق دی نہیں ہے، تو اگر میں باہمی رضامندی سے طلاق دے دوں، تو کیا حالتِ حمل میں طلاق واقع ہوجائے گی یا نہیں؟ اور ایسی صورت میں مہر کا کیا حکم ہے؟ اور شادی کے موقع پر دیے گئے تحفے تحائف کی واپسی یا ملکیت کا کیا حکم ہے؟ وہ کس کی ملکیت ہوگی؟
اولاً تو سائل کو وقتی رنجش اور چھوٹی موٹی باتوں کی وجہ سے طلاق دینے کے بجائے گھر بسانے کی پوری کوشش کرنی چاہیئے ، تاہم پوری کوشش کے باوجود اگر گھر بسانا ممکن نہ ہو اور یہ رشتہ ختم کرنا ہی مسئلہ کا واحد حل ہو، تو چونکہ حالتِ حمل میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، تو ایسی صورت میں اگر سائل اپنی بیوی کو حق مہر کی معافی کے عوض طلاق دیدے ، تو طلاق کے بعد سائل کی مطلقہ بیوی اپنے حق مہر کی حقدار نہ ہو گی ، البتہ اگر سائل اپنی مرضی سے یا بیوی کے مطالبہ پر حق مہر معاف کرائے بغیر طلاق دیدے، تو اس صورت میں سائل مکمل حق مہر ادا کرنے کا پابند ہو گا، جبکہ سائل کی بیوی کو شادی کے موقع پر اپنے والدین کی طرف سے جہیز میں جو کچھ دیا گیا ہے ، یا سسرال کی طرف سے بطورِ گفٹ جو کچھ دیا گیا ہے ، وہ شرعا سائل کی بیوی کی ملکیت ہے، لہذاب طلاق ہونے کی صورت میں سائل کے ذمہ جہیز کا سامان اپنی بیوی کو واپس کرنا لازم اور ضروری ہے۔
کما قال الله تعالى : وآتوا النساء صدقاتهن نحلة ( سورة النساء، الآية: ٤) -
وفي الدر المختار: (وحل طلاقهن) اى فى الآيسة والصغيرة والحامل (عقب وطء)
لان الكراهة فيمن تحيض لتوهم الحبل وهو مفقود ههنا الخ (ج۳، ص ۲۳۲، ط: سعيد)۔
وفي الهندية : والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة الدخول والخلوة الصحيحة وموت أحد الزوجين سواء كان مسمىً أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالابراء من صاحب
الحق كذا في البدائع الخ (ج ۱، ص ۳۳، ط: ماجدية). وفي رد المحتار: كل احد يعلم ان الجهاز للمرأة اذا طلقها تأخذه كله ، واذا ماتت يورث عنها الخ (ج ، ص ١٥٨ ، ط: سعيد)۔
وفيه ايضاً وحكمها ثبوت الملك للموسوب له غير لازم الخ (ج ٥ ، ص ٦٨٨) -