السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتیان کرام !مسئلہ طلاق کے حوالہ سے ہےکہ میں نے اپنی بیوی جو کہ چار یا پانچ مہینے سے پیٹ سے ہے، یعنی حاملہ ہے، اور اس دوران میں اور میری بیوی کے بیچ کچھ تنازعات کی وجہ سے آپس میں جھگڑا ہوا اور میں نے غصہ میں اپنی بیوی کو طلاق دی تین بار ، میری گزارش ہے آپ اساتذہ سے کہ میرے لئے کیا حکم ہے، طلاق ہوجاتی ہے یانہیں؟ شکریہ جواب کا انتظار ہوگا۔
واضح ہو کہ حالت حمل میں بھی طلاق دینے سے شرعاً واقع ہوجاتی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو لڑائی جھگڑے کے دوران تین طلاقیں دیدیں، تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے، جبکہ عورت ایام عدت (وضع حمل ) کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی الدرامختار: (وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل وعم التفريق،الخ (ج3 ص286 باب الطلاق غیر المدخول بہا ط سعید)۔
وفیہ ایضاً: (وحل طلاقهن) أي الآيسة والصغيرة والحامل (عقب وطء) لأن الكراهة فيمن تحيض لتوهم الحبل وهو مفقود هنا الخ(ج3 ص 232 کتاب الطلاق ط سعید)۔
وفی الھندیۃ: وعدة الحامل أن تضع حملها كذا في الكافي. الخ (ج1 ص 528 الباب الثالث عشر فی العدۃ ط ماجدیہ)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛الخ (ج3 ص187 فصل وأما حکم البائن ط سعید)۔