میرا نام کامران دلدار خان ولد دلدار خان ہے ، میری بیوی کا نام فاریہ شاہین ہے ، کچھ دن پہلے میری بیوی سے میری لڑائی ہو گئی، جس میں میں نے اپنی بیوی کو سلمی نام لے کر ایک مجلس میں 3 بار طلاق دی ہے ،الفاظ طلاق یہ تھے،سلمیٰ تمہیں طلاق ہے ،طلاق ہے ،طلاق ہے ، میں اور میرے گھر والے اسے سلمی کے نام سے بلاتے ہیں ، اب معلوم یہ کرنا ہے ،کہ ایسی صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوگئیں ،اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے ، نیز بیوی کا اصل نام فاریہ شاہین ہے ، لیکن پیار سے گھر میں سب سلمیٰ کے نام سے پکار تےہیں۔
صورتِ مسؤلہ میں اگر سائل اور سائل کےگھر والوں کے ہا ں اس کی بیوی کو "سلمیٰ"کے نام سے مخاطب کر کے پکارا جاتا ہو ، تو ایسی صورت میں سائل نے جب اپنی بیوی کو مخاطب کر تے ہو ئے سلمیٰ "میں تمہیں طلاق دیتاہوں "کے الفاظ تین بار کہے ، تو اس سے اس کی بیو ی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ،اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کمافی الھندیۃ:وان کان الطلاق ثلاثاًفی الحرۃوثنتین فی الامۃ، لم تحل لہ حتیٰ تنکح زوجاًغیرہ نکاحاًصحیحاًویدخل بھا ثم یطلقھا أویموت عنھا ، کذا فی الھدایہ (الباب السادس فی الرجعۃ ، فصل فیماتحل بہ المطلقہ ج1 ص473 ط:ماجدیہ)۔
وفی الدرالمختار:کررلفظ الطلاق وقع الکل وان نوی التاکیددین(کتاب الطلاق ج3 ص293ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج (الفصل الاول فی الطلاق الصریح ج1ص355ط:ماجدیہ)