امامت و جماعت

عورت کا گھر میں دیگر عورتوں کو تراویح کی جماعت کرانے کا حکم

فتوی نمبر :
71648
| تاریخ :
2024-03-12
عبادات / نماز / امامت و جماعت

عورت کا گھر میں دیگر عورتوں کو تراویح کی جماعت کرانے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ رمضان کے مہینے میں حفظِ قرآن پاک تراویح میں مکمل کرتے ہیں، عورتیں بھی گھر میں عورتوں کی جماعت کرواتی ہیں جس میں برابر کھڑی عورت جماعت کرانے والی کو فالوکرتی ہیں ، کیا عورتیں اپنے گھر میں اس طرح جماعت کروا سکتی ہیں؟ اگر ایک صف میں کھڑے ہوں، پھر بھی کیا عورت کا عورت کو نماز میں فالو کرنا اور امامت کرنا جائز ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ عورتوں کا تنہا اپنی جماعت کرانا کہ انہیں میں سے کوئی عورت امامت کروائے، مکروہِ تحریمی ہے، لہذا عورتوں کیلئے تراویح میں قرآن پاک مکمل کرنے کی خاطر تراویح کی جماعت کرانا درست نہیں، بلکہ تنہا اپنی اپنی نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی اعلاء السنن: عن علی بن ابی طالب أنہ قال: لا تؤم المرأۃ (215/4)
وفیہ ایضاً: فعلم ان جماعتھن وحدھن مکروھۃ(4/ 215)
وفی الدر المختار: ویکرہ تحریما جماعۃ النساء ولو فی التراویح (إلی قولہ) فإن فعلن تقف الإمام وسطھن فلو قدمت أثمت الخ (کتاب الصلاۃ ج 1 صـ 565ط: سعید)
وفی رد المحتار: تحت (قولہ ویکرہ تحریما) صرح بہ فی الفتح والبحر (قولہ ولو فی التراویح) أفاد أن الکراھۃ فی کل ماتشرع فیہ جماعۃ الرجال فرض أو نفل الخ (1/ 565)
قال الشامی: أفاد أن وقوفها وسطهن واجب كما صرح به في الفتح، وأن الصلاة صحيحة، وأنها إذا توسطت لا تزول الكراهة، وإنما أرشدوا إلى التوسط لأنه أقل كراهية من التقدم كما في السراج بحر اھ (1/ 566)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کریم یعقوب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71648کی تصدیق کریں
0     822
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات