بخدمت جناب محترم مفتیان کرام جامعہ بنوریہ العالمیہ کراچی ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کا تہ ! اس صورت مسئلہ کے متعلق مفتیان کرام کیا فرماتے ہیں کہ شوہر نے اپنی بیوی کو شرائط کے تحت ایک طلاق دی بیوی ہی کے مطالبہ پر ، ان میں سے ایک شرط یہ کہ بچے کا ایک سال پورا ہونے پر بچے کی Custody خود بخود والد کو مل جائے گی لڑکی کی طرف سے اس کے نکاح کے وکیل بھائی نے مدت پورا ہونے پر حوالہ نہیں کیا ، اب ایسی صورت میں یہ طلاق واقع ہوئی کہ نہیں ؟ مسئلہ کی تفصیل صورت مسئلہ کے ساتھ میں نے معلق کردی ہے ۔
نوٹ: یہ طلاق نامہ سائل کے والد نے بنوایا تھا، اور سائل نے کسی مفتی صاحب سے پوچھ کر سائن کرنے سے پہلے دو طلاقوں پر خط کھینچ دیا ، ان شرائط کے تحت طلاق ہوئی یا نہیں؟ اور والد (سائل ) شرائط کے تحت بچہ لینے کا حقدار ہے یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں لڑکی والوں کی طرف سے شرط کے مطابق عمل نہ کرنے کی وجہ سے وقوع طلاق پر تو کوئی اثر نہ ہوگا تاہم منسلکہ طلاق نامہ میں بچے کی حوالگی کے متعلق جو شرط رکھی گئی ہے وہ شریعت کے خلاف ہے اس لئے شرعاً لڑکی والوں پر اس شرط کے مطابق عمل کرنا لازم اور ضروری نہیں ، بلکہ بیٹے کی عمر سات سال ہونے سے قبل اس کی پرورش کا حق بچے کی ماں کو حاصل ہوگا ، بشرطیکہ اس دوران وہ بچہ کے کسی غیر ذی رحم محرم سے شادی نہ کرلے ، اور دوران پرورش بچے کی کفالت پر آنے والے ضروری اخراجات والد کے ذمہ لازم ہوں گے ، تاہم مذکور مدت کے بعد والد کو بچہ اپنی تحویل میں لینے کا اختیار ہوگا۔
كما في تنوير الأبصار: ( وما يصح و لا يبطل بالشرط الفاسد القرض و الهبة و الصدقة و النكاح و الطلاق الخ ( باب المتفرقات ، ج 5، ص 249، ط : سعید)-
و في رد المحتار تحت ( قوله ونحو ذلك) و لو قال أنت طالق على دخولك الدار إن قبلت يقع و إلا فلا ، لأنه استعمل الدخول استعمال الأعواض فكان الشرط قبول العرض لا وجوده كما لو قال على أن تعطیني ألف درهم الخ (مطلب ما يكون في حكم الشرط ، ج ۳، ص۳۵۲ ، ط: سعيد)-
و في العناية شرح الهداية بهامش فتح القدير : ( قوله و الإبراء مما يتقيد بالشرط وإن كان لا يحمل التعليق به ) أنها متغائران لفظا و معنى أما لفظا فهو أن التقييد بالشرط لا يستعمل فيه لفظ الشرط صريحا و التعليق به يستعمل فيه ذلك و أما معنى فلأن في التقييد به الحكم ثابت في الحال على عرضية أن يزول إن لم يوجد الشرط و في التعليق به الحكم غير ثابت في الحال و هو بعرضية أن يثبت عند وجود الشرط الخ ( باب الصلح في الدين ، ج ۸، ص 429، ط : دار الفكر)-
و في الفتاوى الهندية : و الأم و الجدة أحق بالغلام حتى يستغني و قدر بسبع سنين الخ ( الباب السادس في الحضانه ، ج ۲، ص 545، ط : رشيدية)–
و في البزازية : أحق الناس بالولد حال قيام النكاح و بعد الفرقة الأم فإن ماتت أو تزوجت بأجنبي لا بعم الصغير ( إلى قوله ) فأم الأم الخ ( مسائل الحضافة ، ج ٢ ص 543، ط : رشيدية)-
و في فتاوى قاضي خان : البنت البالغة و الغلام البالغ الزمن بمنزلة الصغير نفقته على الأب الخ ( فصل في نفقة الأولاد، ج ۳، ص 37، ط : رشيدية)-