السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
حضرت جی !بعد از تسلیمات عرض ہے کہ ہمارے دوست کا گھر مشترکہ ہے، وہاں پر میری ایک پھوپھو کی بیٹی رہتی ہے، اس لڑکی نے اپنی خوبصورتی اور طلسم ادائوں کی بنیاد پر میرے علاوہ تین لڑکوں کو ایمانی نقصان پہنچایا ہے اور چوتھا پانچواں لڑکا میں ہوں او وہ مجھ سے شادی بھی کرنا چاہتی ہے، لیکن اس کے ماضی کے کردار کی وجہ سے میں اس سے شادی کرنا نہیں چاہتا ،کیونکہ پہلے بھی وہ ایک شادی شدہ عورت ہے اور وہ مطلقہ ہے ،اس نے اس کے والد سے شادی کا مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ اس کی شادی اپنے بیٹے سے کروا دے ،لیکن وہ دوست بھائی شادی نہیں کرنا چاہتا ،وہ اس کے سامنے عجیب و غریب حرکات کرتی ہے ،اگر لڑکا صحن میں سو رہا ہو تو جان بوجھ کر اس لڑکے کے ساتھ اپنے جسمانی اعضا ءکو محسوس کرواتی ہے اور اس کے سامنے گلا کھلا چھوڑ کر چلتی ہے اور بعض اوقات بالوں وغیرہ کو بھی کھول دیتی ہے، اس جگہ پر کہ کہیں لڑکے سے کوئی غلطی سرزد نہ ہو جائے ،وہ پشت سے نہیں کرتا ہے، مشت زنی کرتا ہے اور اس ماحول سے تنگ بھی ہے ،کچھ وظائف بھی کرتا ہے ،لیکن جو کہ اثر نہیں کر رہے ،کوئی وظیفہ مختصر بتا دے اور مشورہ بھی دے ،تاکہ ماحول تبدیل ہو جائے یا میں یہ گھر چھوڑ دوں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور لڑکےکیلئے بہتر یہ ہے کہ وہ اس جگہ کو چھوڑ کردوسری جگہ رہائش اختیار کرلے،البتہ اگر الگ رہائش اختیار کرنے کی استطاعت نہ ہو اور کسی وجہ سے اسی مشترکہ گھر میں رہنے پر مجبور ہو ،تو اس صورت میں حتی الامکان اس لڑکی کے سامنے جانے اور اس سے بے تکلف ہونے سے اجتناب کرے اور اگر ممکن ہو اور کسی قسم کے فتنہ کے بڑھ جانے یا لڑائی جھگڑا پیدا ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو گھر کے بڑوں کو حکمت و بصیرت کے ساتھ تمام صورتحال سے آگاہ کر کے اس فتنہ کے سد باب کرنے کی کوشش کرے ،لیکن اگر اس عمل سے مزید نزاع پیدا ہونا یقینی ہو تو پھر خاموشی اختیار کرتے ہوئے اس لڑکی کی ہدایت اور اپنی حفاظت کے لیے مستقل دعائوں کا اہتمام کرے، جلد از جلد نکاح کی فکر کرے، انشاءاللہ اس سے گناہوں سے بچنے میں آسانی میسر ہوگی۔