میرے شوہر نے 2016 میں مجھے ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دیں، پھر تھوڑی دیر میں ہی اس نے کہا کہ میرا مطلب یہ نہیں تھا اور میں بھی خاموش ہوگئی، لیکن اس کے بعد میرے شوہر نے مجھ سے ازدواجی تعلق ختم کیا ۔ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی کبھی میرے قریب نہیں آتے، کیا میں اسی طرح ان کے ساتھ رہوں؟ میں نے کئی بار اپنی خواہش ظاہر کی، لیکن وہ ہمیشہ مجھے منع کردیتا ہے، میں ذہنی الجھاؤ میں مبتلا ہوں، آپ سے مشورہ چاہتی ہوں۔
نوٹ: سائلہ سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ الفاظ طلاق یہ تھے "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"تین مرتبہ یہ الفاظ کہے تھے۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہواور واقعۃً سائلہ کے شوہر نے 2016 میں مذکور الفاظ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"تین بار کہے ہوں تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، اور اب تک ساتھ رہنے کی وجہ سے جو گناہ سرزد ہوا ہے اس پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کریں، جبکہ سائلہ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
کما فی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة الخ(ج۳،ص۱۸۷،کتاب الطلاق،ط۔دارالکتب العلمیہ)۔