السلام عليكم ! کیا فرماتے ہیں علماء اور مفتی صاحبان اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیٹی کو صبح کو اس کا سسر میرے گھر چھوڑ گیا یعنی میرے داماد کے والد نے خود بہو کو میرے گھر چھوڑا ، اس وقت تک معاملہ بلکل نارمل تھا ، اس کے بعد میری بیٹی کا سسر رات کودیر گئے دوبارہ آیا ہم سے جھگڑا کیا کہ تم نے میری بیٹوں کو کیوں گالی دی، ہم سے جھگڑا کرنے لگا ، اس دوران بیٹی کا شوہر یعنی میرا داماد اس کے ساتھ تھا ، وہ اپنی گھر والی کو لینے آیا تھا ، مگر دیکھا لڑکی کا والد اور میرے والد آپس میں لڑ رہے ہیں ، اس دوران بیٹی کا شوہر یعنی میرے داماد نے اپنے والد کو بولا ابا چلو بات ختم کرو چلتے ہیں، جھگڑ امت کرو ، مگر لڑکی کا سسر مسلسل لڑتا رہا ، گالیاں دیتا رہا کسی کی بھی نہیں سن رہا تھا ، آخر بیٹی کے شوہر میرے داماد نے دیکھا کے میرے والد نہیں سمجھ رہیں خاموش نہیں ہو رہے ، تو جذبات میں آکر داماد نے سب کے سامنے میری بیٹی کو تین طلاق دے اور اپنے والد کو کہا اب تو خاموش ہو جاؤ میں نے بات ہی ختم کردی یہ طلاقیں سب کے سامنے دی ۔
نوٹ : الفاظ طلاق یہ تھے کہ : میں آپ کو طلاق دیتا ہوں ، میں آپ کو طلاق دیتا ہوں، میں آپ کو طلاق دیتا ہوں ۔
صورت مسئولہ میں جب سائل کے داماد نے گھروالوں کے سامنے اپنی بیوی کو تین مرتبہ الفاظ طلاق "میں آپ کو طلاق دیتا ہوں " کہہ دئیے ، تو اس سے سائل کی بیٹی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا ، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، جبکہ سائل کی بیٹی ایّام عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ، اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایّام عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرےمسلمان سے اپنا عقد نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے تو بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر پر گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا ، تاکہ زوج اول دوبارہ اسکے ساتھ عقد نکاح کرے ، یہ مکروہ تحریمی ہے اور اس پر حدیث میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، لہذا اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
کما قال الله تعالى : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الخ ( سورة البقرة ، الأية : 230)-
و في صحيح البخاري : عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك الخ ( باب شهادة المختبي ، ج 2 ، ص 1243 ، رقم : 2639 ، ط : البشرى )-
و في بدائع الصنائع : و أما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، و زوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر ؛ لقوله عز وجل فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة الخ ( فصل وأما حكم البائن ، ج 3 ، 187 ، ط : سعيد )-