میرا نام حسیب احمد ہے اور میری زوجہ کا نام منہا سلیم ہے،ہماری شادی کو تقریباً ایک سال ہوگیا ہے،الحمد للہ ہم ہنسی خوشی زندگی گزار رہے ہیں، ایک ماہ پہلے میری زوجہ کا پانچواں ماہ تھا،اور بے احتیاطی کی وجہ سے ہمارا بچہ ضائع ہوگیا،اور میری زوجہ اپنی والدہ کے گھر چلی گئی میری باہمی رضامندی سے ،میری اور بیوی کے درمیان کبھی کوئی لڑائی نہیں ہوئی نا کوئی اور بات ہوئی،میری بیوی بچہ ضائع ہونے کی وجہ سے اور حیض کی وجہ سے چڑ چڑی ہوئی تھی،اور میں نے ان کو بولا کہ بھئی واپس آجاؤ،مجھے 104 بخار ہے،میں گھر میں اکیلا ہوں،اور مجھے جھٹکے لگ رہے ہیں،میری اور بیوی کی بات میسج پر ہورہی تھی،چھ دن بعد میرے سسرصاحب کی کال آئی کہ میں نے آپ کی بیوی کے موبائل میں میسج دیکھے ہیں،جس پر میری بیٹی آپ سے بول رہی ہےمیسج پر کہ مجھے فارغ کردو،جبکہ وہ حیض کی حالت میں تھی،جبکہ میں نے اس کو چپ کرانے کے لیےیہ میسج لکھا کہ" تم فارغ ہو"جس پر میری بیوی نے بولا کہ فون کرو اور طلاق دو،ایسے میسج پر لکھنے سے کوئی فارغ نہیں ہوتا،جبکہ نہ میں نے ان کو کوئی فون کیا ، نہ طلاق دی،اور خدا اس بات کا گواہ ہے کہ نہ میرا طلاق دینے کا ارادہ تھا اور نہ ہےاور نہ نیت تھی اور نہ ہے،ہم دونوں میاں بیوی آج مؤرخہ 17 اپریل تک دونوں ہنسی خوشی ایک ساتھ رہے ، جبکہ میرے ساس سسر اور اہل خانہ گواہ ہیں اور میری بیوی اپنے والد کو کہہ رہی ہےکہ نہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دی ہے ، نہ ان کا کوئی اس طرح کا ارادہ تھا اور یہ ساری بات ہم میسج پر کررہے تھے ،چونکہ ہمارا بچہ فوت ہوگیا تھا،لہذا میرے سسر یہ کہہ رہے ہیں کہ ایک فتوی لے لیں کہ ہماری کوئی طلاق تو نہیں ہوئی میسج پر اس طرح کی بات کرنے سے؟
مفتی صاحب ! میں قرآن پاک اٹھانے کے لیے تیار ہوں ،صرف اپنے سسر کی تسلی کے لئے اور ان کو یقین دلانے کے لئے کہ نہ مجھے ان کی بیٹی سے کوئی تکلیف ہے اور نہ میری بیوی کو مجھ سے کوئی تکلیف ہے اور نہ میں نے کوئی طلاق دی ہے میسج پر براہِ مہربانی آپ جواب دے دیں اور اس پر روشنی ڈالیں۔
نوٹ: اس کے علاوہ اس طرح کے الفاظ بھی میں نے کہے تھے "او بیماری چل نکل،تمہارا کوئٹہ سے کوئی تعلق نہیں"ان الفاظ سے تو طلاق نہیں ہوتی؟
واضح ہو کہ" فارغ ہو "کا جملہ عند القرینۃ طلاقِ بائن کے لئے استعمال ہوتا ہےاور اس سے طلاقِ بائن واقع ہوکر نکاح ختم ہوجاتا ہے، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیوی نے جب میسج پر "مجھے فارغ کردو"کا جملہ سائل کو بھیجا اور سائل نے اس کے جواب میں "تم فارغ ہو"کا جملہ کہا تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے،جبکہ بقیہ الفاظ سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،چنانچہ اب رجوع نہیں ہوسکتا ،البتہ اگر دونوں میاں بیوی ایک ساتھ رہنے پر آمادہ ہوں تو اس کے لئے گواہوں کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب وقبول کرکے دوبارہ نکاح کرنا لازم اور ضروری ہوگا،تاہم اس نکاح کے بعد آئندہ کے لئے سائل کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا ، لہذا آئندہ کے لئے طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔
کما فی الفتاوى الهندية : (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام(الی قولہ) وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي الخ (ج1 ص348 کتاب الطلاق،باب الکنایات ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: (وأما حکمہ) فوقوع الفرقۃ بانقضاء العدۃ فی الرجعی وبدونہ فی البائن الخ (ج1 ص348 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ)۔