السلام عليكم !مفتی صاحب ! کیا ذیل میں ذکر کردہ دعا اور اس کی مذکورہ فضیلت حدیث سے ثابت ہے ؟ کیا اس فضیلت کا اعتقاد رکھتے ہوئے اس پر عمل کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟
سحری کا انمول وظیفہ : " لا إله إلا الله العلي القيوم ، القائم على كل نفس بما كسبت " جو شخص اس دعا کو سحری کے وقت سات مرتبہ پڑھے گا ، اس کو ہر ستارے کے بدلے میں ہزار نیکیاں ملیں گی اور اس کے ہزار گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ سحری کے وقت کثرت سے " یا واسع المغفرۃ " کا ورد رکھو ، اس کے پڑھنے والے کے گناہِ صغیرہ معاف ہو جائیں گے (حدیث نبوی) ۔
سوال میں مذکور دعا اور اس کی فضیلت کا ثبوت تلاشِ ِ بسیار کے باوجود حدیثِ صحیح میں نہیں ملا ، اسی طرح سحری کے وقت کثرت سے " یا واسع المغفرۃ " پڑھنے کی فضیلت کا ثبوت بھی کسی حدیث میں نہیں ملا ، لہذا سحری کے وقت مذکور دعائیں مذکور فضیلت کا اعتقاد رکھتے ہوئے پڑھنے سے احتراز چاہیئے ، البتہ " یا واسع المغفرۃ اغفرلی " سحری کے وقت پڑھنے کے بجائے افطار کے وقت پڑھنے کا ثبوت حدیث سے ملتا ہے ، اس لئے اس کو افطار کے وقت پڑھنے کا اہتمام چاہیئے ۔
کما في شعب الإيمان للبيهقي : عن نافع قال ابن عمر : كان يقال إن لكل مؤمن دعوة مستجابة عند إفطاره إما أن يعجل له في دنياه أو يدخر به في آخرته قال : فكان ابن عمر يقول عند إفطاره : يا واسع المغفرة اغفر لي (3\407، رقم : 3903، ط : دار الكتب العلمية،بیروت)-
و في مسند الشهاب : عن الحارث بن عبيدة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لكل صائم دعوة وإذا أراد أن يفطر فليقل عند أول لقمة يا واسع المغفرة اغفر لي . ( 2\128، رقم : 1031، ط : مؤسسة الرسالة)-