،کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری شادی کو دس سال ہوچکے ہیں ، میرا شوہر نشہ کرتا ہے ، میں نے اس سے نشہ چھوڑنے کا کہا تو اس نے لڑائی کی اور پھر کچھ دن بعد وائس میسج پر طلاق دیدی ، اور الفاظ یہ کہے کہ طلاق " میں نے تجھے طلاق دیدی ہے ، طلاق دیدی ہے ، طلاق دیدی ہے " بس اب ختم طلاق، اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ، جبکہ شوہر نے دو الگ الگ دن ایک شخص کو بتایا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی ہے ، طلاق کا وائس میسج دارالافتاء کے واٹس ایپ پر موجود ہے ۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اور واقعۃً سائلہ کے شوہر نے مذکور الفاظ " میں نے تجھے طلاق دیدی ہے ، طلاق دیدی ہے ، طلاق دیدی ہے ،واٹس ایپ پر بھیجے ہوں جیسا کہ سوال میں مذکور ہے ، تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما فی الدرالمختار : (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة)الخ( ج1ص 247 باب الصریح ط سعید)۔
وفی الھندیۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهدايةالخ ( ج 1ص473 کتاب الطلاق ط ماجدیۃ)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛الخ ( ج3ص 187 فصل وأما حکم البائن ط سعید)۔